ارنا رپورٹ کے مطابق، "میخائیل اولیانوف" نے بدھ کے روز کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ٹرائیکا نے یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیوں میں اضافے کے فیصلے کا الزام ایران پر عائد کیا حالانکہ "وہ ان تبدیلیوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کو بھول گئے؛ تہران کا یہ فیصلہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں ٹرائیکا اور امریکہ کی طرف سے [کشیدگی] بڑھانے کی کوششوں کا ایک متوقع ردعمل ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے 20 نومبر کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری کے سلسلے میں تین یورپی ممالک اور امریکہ کے حالیہ اقدام کے جواب میں پہلے مرحلے میں ایران کی جوہری توانائی ادارے کے ایجنڈے میں متعدد اقدامات کو شامل کیا گیا۔ اور ان کا نفاذ آج بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کی موجودگی میں نطنز اور فردو کی جوہری تنصیبات میں مکمل ہو گیا۔
گزشتہ ہفتے کے دوران، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے اپنے سہ ماہی اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سیاسی ماحول کے زیر اثر ہمارے ملک کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف ایک قرارداد کی منظوری دی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے @IRNA_Urdu
آپ کا تبصرہ