تعلیمی تعاون؛ ایران پاکستان کے عوامی تعلقات کی مضبوطی میں مدد کرنے کی بھرپور صلاحیت

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی یونیورسٹیوں نے ایک نئے قدم میں تعلیم، ثقافت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے لیے متعدد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، یہ حکمت عملی دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کی بھرپور صلاحیت سمجھی جاتی ہے۔

ارنا رپورٹ کے مطابق، ایران اور پاکستان کے درمیان علمی تعاون کو وسعت دینے کے لیے علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر "عبداللہ معتمدی" نے اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی اور تکنیکی تعاون کی قائمہ کمیٹی کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا جس کے دوران، دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

ان ملاقاتوں میں پاکستان کے سینئر تعلیمی حکام، علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے صدر کے علاوہ پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے پبلک ڈپلومیسی اور میڈیا اتاشی کی خاتون سربراہ ڈاکٹر "حمانہ کریمی کیا" نے بھی شرکت کی۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر معتمدی کے اسلام آباد میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے دورے کے دوران علامہ طباطبائی یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی کے درمیان دونوں یونیورسٹیوں کے صدور کیجانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

اس موقع پر علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے صدر نے پاکستانیوں کو ایران اور مغربی ایشیا میں انسانیات اور سماجی علوم کی سب سے بڑی خصوصی یونیورسٹی کے طور پر اس یونیورسٹی کی صلاحیتوں کے بارے میں وضاحتیں دیں۔

نیز پاکستان یونیورسٹی کے صدر "محمد علی شاہ" نے اس یونیورسٹی اور اس کی متعدد فیکلٹیز کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے علامہ طباطبائی سمیت ایرانی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا اور مستقبل قریب میں دو یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور طلباء کے درمیان تبادلہ پروگرام کے نفاذ کی تجویز پیش کی۔

تعلیمی تعاون؛ ایران پاکستان کے عوامی تعلقات کی مضبوطی میں مدد کرنے کی بھرپور صلاحیت

پاکستان نیول یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط

علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے صدر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان نیوی سے منسلک نیول یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے صدر "شوکت کلیم" سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر معتمدی نے کہا کہ علامہ طباطبائی یونیورسٹی 13,500 طلباء، 550 فیکلٹی ممبران، 11 فیکلٹیز اور متعدد تحقیقی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے کی بڑی صلاحیت رکھتی ہے اور اس وقت مختلف ممالک میں 70 اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹی مراکز کے ساتھ سائنسی اعلیٰ تعاون اور تعاون کر رہی ہے۔

 شوکت سلیم نے بھی پاکستان نیول یونیورسٹی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ یونیورسٹی، جس میں 19,000 طلباء اور 1,500 اساتذہ ہیں، بین الاقوامی تعاون کی بڑی صلاحیت رکھتی ہے اور کئی ممالک کے ساتھ سائنسی، تعلیمی اور تحقیقی تعاون فراہم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ بحریہ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور فیکلٹیز کے سربراہان کے ساتھ ملاقات میں ایران اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان بین الاقوامی سائنسی، ثقافتی، تحقیقی اور تکنیکی تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔

آخر میں، علامہ طباطبائی یونیورسٹی نے پاکستان کی دو بڑی یونیورسٹیوں قائد اعظم اور بحریہ کے ساتھ تعلیمی، تحقیقی اور ٹیکنالوجی تعاون کے لیے الگ الگ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کی علامہ طباطبائی یونیورسٹی اور پاکستان رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے تحت سائنسی رابطے اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha