ایرانی ہلال احمر نے ایک صدی تک دیانتداری سے رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں

تہران، ارنا- عالمی ریڈکراس کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ صدی کے دوران ایرانی ہلال احمر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے "جنریشن کیلئے یک صدی تک دیانتداری سے رضاکارانہ خدمات" قرار دے دیا۔

ان خیالات کا اظہار ایران کے دورے پر آئے ہوئے "ماردینی" نے آج بروز منگل کو ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ کراس کا ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے ساتھ "طویل تعاون" ہے اور ہمیں ہلال احمر کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔

ماردینی نے مشرق وسطی میں جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کرنے میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کو چیلنجوں کے حل کے لیے اہم ملک قرار دیا۔

انہوں نے عالمی  ریڈ کراس  کمیٹی کی جانب سے ایران میں افغان شہریوں کے لیے امداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں افغانستان میں کمیٹی کی 30 سال سے زائد عرصے سے موجودگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس تنظیم نے افغانستان میں ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔

ماردینی نے کہا کہ ریڈ کراس کی طرف سے فراہم کردہ خدمات صحت کے کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی سے لے کر شہریوں کو طبی آلات فراہم کرنے تک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ تبدیلوں کے بعد ایران ہجرت کرنے والے افغان شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماردینی نے کہا کہ عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے اپنے بجٹ کو بنیادی طور پر صحت کے شعبے کی مدد کے لیے دوگنا کردیا ہے تا کہ کمروز افغان پناہ گزینوں کی حمایت کرسکے۔

ماردینی نے بجٹ میں اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے جامع کوششوں میں بین الاقوامی اداروں کی شرکت پر زور دیا۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ بہت سے چیلنجز اور انسانی مواقع ہیں جن پر ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک غیر دستاویزی تارکین وطن کی مدد اور مدد کی ضروریات کا پورا کرنا ہے جو اب بھی افغانستان سے ایران پہنچ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ماردینی جو ہلال احمر سوسائٹی کے قیام کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر ایران کا سفر کیا ہے، نے مختلف اجلاسوں میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور ان کی تعریف کی۔

وہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور 100 سے زیادہ ممالک میں اس کے 20,000 عملے کو ہدایت دینے کے ذمہ دار ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha