پاک ایران کا فلسطین کے دفاع میں اتحاد عالم اسلام کے دل کو ڈھرکتا ہے: پاکستانی سینٹیر

تہران، ارنا- پاکستانی سینیٹ کے نمائندے اور اس پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ فلسطین کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی حمایت سے دنیا کے مسلمانوں کے دل مضبوط ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یوم القدس، ناجائز صہیونی ریاست کے قبضے کے خلاف فلسطینی حامی اقوام کے درمیان یکجہتی کی ضرورت کی یاد دہانی ہے۔

سینیٹر "مشاہد حسین" نے عالمی یوم القدس کے موقع پر اسلام آباد میں تعینات ارنا نمائندے سے ایک انٹرویو میں کہا کہ بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رہ) کی طرف سے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم القدس کے طور پر قرار دینا ایک تاریخی اور سٹریٹجک فیصلہ ہے جس نے آج تک پوری دنیا کو فلسطین کی حمایت میں متحد کر رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان فلسطینی کاز کے دفاع اور صہیونی ریاست کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ شراکت داری میں ہمیشہ پیش پیش ہیں اور اس سے امت اسلامیہ کے دل کو تقویت ملتی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے سینئر رکن نے کہا کہ عالمی یوم القدس فلسطین کی حمایت اور یروشلم میں ناجائز صہیونی ریاست جرائم کے خلاف روشن خیالی کی راہ ہموار کرتا ہے اور ہم فلسطین پر قبضے کی مذمت میں مسلمانوں اور دیگر آزادی پسند اقوام کی یکجہتی کو دیکھتے ہیں۔

انہوں نے عالم اسلام کو مشترکہ دشمنوں کی سازشوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا جس میں فلسطین کی حمایت کو مضبوط کرنا بھی شامل ہے اور  عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے اہم علاقائی کرداروں جیسے اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کی سینیٹ کی دفاعی امور کی کمیٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ آج ہم عالم اسلام کے بااثر ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کا مشاہدہ کر رہے ہیں؛ بغداد میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت خوش آئند ہے اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے عالم اسلام کے مشترکہ محاذ کو مضبوط کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی مسلمان قوم نے حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف شہروں میں بڑے مظاہرے کرکے مسجد الاقصی پر صیہیونی حملے اور نہتے فلسطینی نمازیوں کو دبانے کی مذمت کی ہے اور آج نماز جمعہ کے بعد پاکستان بھر میں عالمی یوم قدس کے شاندار جلوس نکالے جائیں گے جس میں پاکستانی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی شرکت ہوگی جو کہ پڑوسی ملک کے مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور وزارت خارجہ سمیت دیگر پاکستانی حکام نے حال ہی میں پیغامات اور بیانات میں مسجد الاقصی پر صیہونی غاصبوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha