امریکہ سے براہ براست مذاکرات پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات سے متعلق کہا کہ امریکی بدستور براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ہم نے اب تک براہ راست مذاکرت کیلئے حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "حسین امیر عبداللہیان" نے پیر کے روز کو ایران اور پڑوسی ممالک کے عنوان کے تحت منعقدہ ایک کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے جوہری مذاکرات میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ ہم نے اس وقت سینئر ماہرین، سیاسی ڈائریکٹر جنرل اور نائب وزراء کی سطح پر مذاکرات کا اہتمام کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اسی سطح پر عمل درآمد کے پروسس میں داخل ہوجائیں گے اور اعلی سطح کی اجلاسوں کی ضرورت نہ ہوجائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جو بات ہمارے لیئے اہم ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم مذاکرات کی میز پر کسی خاص نتیجے پر پہنچیں گے تب لوگوں کو تفصیلات پیش کریں گے اور مجھے امید ہے کہ ہم اس مرحلے کے قریب پہنچ جائیں گے۔

امیر عبداللہیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات سے متعلق کہا کہ امریکی بدستور براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ہم نے اب تک براہ راست مذاکرت کیلئے حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کے دوران بھارت اور سری لنکا کا دورہ کریں گے جن میں چند مقاصد کا تعاقب کریں گے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ بھارت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف میرے بھارتی ہم منصب نے گزشتہ چار مہینوں میں دو مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا ہے اور دوسری طرف بھارت کیساتھ ہمارے اچھے سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں؛ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا میں، دو طرفہ بات چیت کے علاوہ، ہم نے تکنیکی-انجینئرنگ خدمات کو برآمد کرنے اور ڈیموں اور پاور پلانٹس جیسے منصوبوں کو نافذ کرنے میں اہم اقدامات کیے ہیں، جن پر عمل کرنے کے لیے ہم سری لنکا جا رہے ہیں۔

امیر عبداللہیان نے ایران اور ترکی کے درمیان تعاون سے متعلق کہا کہ حالیہ مہینوں میں اشک آباد میں منعقدہ ایکو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر رئیسی اور ان کے ترک ہم منصب کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران-ترکی تعاون کے ہائی کمیشن کا تہران میں انعقاد کیا جائے گا اور ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس کے انعقاد کے قابل ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ  بیک وقت آستانہ امن عمل کے سہ فریقی اجلاس کے انعقاد کا امکان بھی ہے۔ 

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha