ایران اور روس کے بہترین تعلقات کی روشنی میں پابندیاں اٹھانے پر مذاکرات

ویانا- ارنا، ایران اور روس کے صدور کی ملاقات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوگئی جبکہ ویانا مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود؛ ان کو تاخیر اور مغربی فریقوں کے نامناسب رویے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے؛ لہذا اس ملاقات نے سفارتی طور پر ویانا مذاکرات میں شریک دیگر اراکین کا ایک پیغام دیا۔

رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور ولادیمیر پیوٹین نے کل تین گھنٹے تک کی ملاقات میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس ملاقات میں روسی فیڈریشن کے صدر نے اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے عقلی موقف کی تعریف کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ویانا میں پابندیاں ہٹانے پر بات چیت کا آٹھواں دور جاری ہے اور مغربی سیاسی فیصلوں میں بات چیت ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔

ایرانی ٹیم کے اقدامات کی بدولت مذاکرات نے کچھ اختلافات پر قابو پالیا ہے اور معاہدے تک پہنچنے کی رفتار کا انحصار باقی مسائل پر مغرب اور واشنگٹن کے مخصوص سیاسی فیصلوں اور پابندیوں کے خاتمے پر ہے۔

تاہم، مغربی ممالک غیر تعمیری پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے، نفسیاتی آپریشن کے حربے استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کو آگے بڑھانے یا روکنے کے لیے جوابدہ ٹھہراتے ہیں۔

وہ جعلی ڈیڈ لائن قائم کرکے نام نہاد "ہاتھ پر سینگ اور بریک پر پاؤں" کا حربہ مسلط کرتے رہتے ہیں، اور اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ایران کو یا تو مذاکرات کو تیز کرنا ہوگا یا اپنے جوہری پروگرام کو سست کرنا ہوگا جبکہ پابندیاں، مذاکرات میں مغربی فریقین کے اہم لیور کے طور پر، اپنی تاثیر کھو چکی ہیں اور دوسرے فریقین کو مایوس کر چکی ہیں۔

ایرانی صدر نے کل بروز بدھ کو اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی رابطوں کو وسعت دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت میں ماسکو کا دورہ کیا۔

گزشتہ روز کے دوران، دونوں صدور نے سیاست اور حکمت عملی، اقتصادیات، تجارت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی تجارت اور دلچسپی کے تمام موضوعات کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے تمام امور کا جائزہ لیا اور محکمہ خارجہ کو طویل المدتی تعاون کے لیے 20 سالہ روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

ایک ایسا مسئلہ جسے فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا میں بڑے پیمانے پرکوریج کی گئی اور ویانا کوبورگ ہوٹل (ملاقات کی جگہ) کے سامنے موجود صحافیوں کی توجہ کو تازہ ترین پیش رفت سے متعلق رپورٹ دینے پر مرکوز کی۔

ایران کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے جو اس کے ساتھ احترام سے بات کرتے ہیں، اس کی قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور مشترکہ مفادات، دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کی بنیاد پر بات چیت کا مقصد رکھتے ہیں۔

لہذا مغرب کو  سیاسی فیصلہ کرنے کے مشکل موڑ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر غلط فہمیوں اور تعصبات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا جو پیشہ ورانہ مذاکرات کیخلاف ہیں، اور قابل اعتماد اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے دور اندیشی اور جرأت میں ماہر ہونے کا ثبوت دیا ہے اور دوسرے فریق کو جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور رائے عامہ کو ہٹانے کے بجائے معاہدے تک پہنچنے کی اپنی قابل بھروسہ خواہش کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha