پابندیوں کی منسوخی پر ویانا مذاکرات کا سلسلہ جاری؛ یورپی عہدیدار کی مذاکراتی عمل کی تعریف

تہران، ارنا- یورپی یونین کے ڈپٹی سیکرٹری برائے خارجہ امور اور جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کوارڈینٹیر نے آج بروز ہفتے کو ایک ٹوئٹر پیغام میں ویانا میں مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہآج پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ورکنگ گروپ کا اجلاس کوبورگ ہوٹل میں انعقاد کیا گیا۔

پورٹ کے مطابق، "انریکہ مورا" نے کچھ منٹس پہلے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پابندیوں کا ورکنگ گروپ ہوٹل کوبورگ میں انعقاد کیا گیا اور آج مزید ملاقاتیں ہونے والی ہیں۔

انہوں نے پابندیوں کے مذاکرات کی کامیابی کو "ابھی تک غیر یقینی" قرار دیتے ہوئے، موجودہ "پیچیدہ مذاکرات" کی اس صورت حال کی دلیل پر زور دیا۔

ہسپانوی سفارتکار نے کہا کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے ویانا میں عزم اور جاری کوششیں قابل تحسین ہیں۔

واضح رہے کہ ویانا میں بھیجے گئے ارنا رپورٹر سے قریب ایک باخبر ذریعے نے حال ہی میں کہا ہے کہ پابندیوں کے مذاکرات میں بہت سے اختلافات کو کم کر دیا گیا ہے، اور وفود اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ ممکنہ معاہدے کو کیسے نافذ کیا جائے اور اسے ترتیب دیا جائے۔

انہوں نے نام ظاہر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مزید کہا کہ اب ہم مذاکرات کے ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں ہم مشکل مسائل پر بات کر رہے ہیں اور ہم اصولی طور پر جن مسائل پر متفق ہیں، ان کو الفاظ میں  ترجمہ کرنے اور دستاویز میں درج کرنے کے طریقے کی تلاش میں ہیں۔

واضح رہے کہ وفود کے سربراہوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اور تین یورپی ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار اپنی سیاسی پوزیشنوں اور کچھ مشاورت کے لیے جمعہ کی شام (14 جنوری) کو عارضی طور پر اپنے اپنے دارالحکومتوں میں واپس گئے۔

یہ وقفہ دو دن تک جاری رہے گا اور ماہرین کی بات چیت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی اور سینئر مذاکرات کاروں کی واپسی کا مطلب مذاکرات کے آٹھویں دور کی معطلی نہیں ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے عزم اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکراتی عمل پر دباؤ ڈالنے اور مذاکراتی عمل کو سست کرنے کے مغربی فریقوں کے منصوبے کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات نے عملی طور پر دوسری فریقین کی سازشوں کو خاک میں ملادیا ہے اور مذاکرا آگے بڑھ رہے ہیں۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha