ایران اور چین کے اچھے اور مضبوط تعلقات ہیں: امیر عبداللہیان

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے اچھے اور مضبوط تعلقات ہیں۔

حسین امیر عبداللہیان نے گلوبل ٹائمز میں لکھا ہے کہ مغربی اور مشرقی ایشیا کی دو عظیم تہذیبوں کی حیثیت سے ایران اور چین کے درمیان تعلقات اچھے، مستحکم اور مضبوط ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز بیجنگ کے دورے کے دوران ایران اور چین کے تاریخی تعلقات کے سلسلے میں اپنے خیالات کا ذکر کیا جو چینی اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں شائع ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے چینی دوستوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں 2022 کے آغاز کی مناسبت سے اور نئے چینی سال اور شمسی سال 1401 کے موقع پر چین کا سفر کروں گا۔

امیر عبداللہیان نے چین کے ساتھ تعلقات کے قیام کی سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاکہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 51 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دو طرفہ تبادلوں کی صدی کے دوسرے نصف میں داخل ہو رہے ہیں جو ہمارے تعلقات میں ایک نیا صفحہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور چین نے صدی کے پہلے نصف میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں، اعلیٰ سطحی بات چیت، دوطرفہ اور علاقائی مسائل پر بات چیت اور مشاورت، ایک جامع تعاون کے منصوبے پر دستخط، اور بین الاقوامی تنازعات ختم کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر دو اداکاروں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں بشمول کوویڈ 19 کے خلاف جنگ اور بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں میں ایک دوسرے کےمواقف کی حمایت اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت سے چین کی حمایت کے لیے دونوں ممالک کا باہمی تعاون نے صدی کے دوسرے نصف کے لیے تعلقات کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور چین نے مل کر اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کاسنجیدگی سے دفاع کرکے کثیرالجہتی کی حمایت اور اور یکطرفہ پن کی مخالفت کی۔

امیر عبداللہیان نے دونوں ممالک نے مغرب کی نگاہ سے جمہوریت کے نقطہ نظر پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ ایران اور چین نے اپنے مقامی ڈیموکریٹک نظاموں کے ساتھ حقیقی جمہوریت، انسانی معاشرے کی مشترکہ اقدار، انصاف اور آزادی کو دنیا کو دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور چین نے پابندیوں کے نظام پر تنقید کی ہے اور انسانی حقوق کے دوہرے معیارات کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے منصفانہ اور موثر نفاذ اور منصفانہ نظام حکومت کی ترقی پر زور دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک نے کھیلوں کے مسائل کو سیاسی رنگ دینے پر تنقید کر کے مشترکات اور مشترکہ انسانی اقدار کی ترقی پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اب، صدی کے دوسرے نصف کے آغاز میں، ایران ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر چین کے ساتھ کھڑا ہے، اپنے علاقائی مفادات اور پڑوسیوں کے مفادات کا دفاع کرتا ہے۔

بہت برسوں سے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو ان سپر پاورز جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں،  کے تسلط اور لالچ سے خطرہ لاحق ہے۔ایسے مشکل ماحول میں خطے میں امن و استحکام کا دفاع ہمیشہ ایران کی خصوصی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے 2015 کے سمجھوتے (جوہری معاہدے) کو عملی جامہ پہنا کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ علاقائی مفادات کا حصول ایک ترجیح ہے۔جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلاء کے بعد بھی ایران نے دو سال تک اپنے وعدوں کی پاسداری کر کے دنیا کو دکھایا ہے کہ وہ اس راستے پر ثابت قدم ہے۔

امیر عبداللہیان نے ویانا مذاکرات میں چین کے کردار کے بارے میں لکھا کہ چین کا کردار، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن اور بین الاقوامی میدان میں ایک فعال اور موثر کردارکی حیثیت سے قابل تحسین ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@ 

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha