پابندیوں کی منسوخی پر مذاکرات کے نازک مراحل/ باقری کا ویانا میں گہری سفارتی ملاقاتوں کا آغاز

ویانا، ارنا۔ اعلی ایرانی سفارتکار "علی باقری کنی" کل برور پیر کو گروہ 1+4 سے دو طرفہ اور  کثیر الجہتی بھاری ملاقاتوں کے بعد گہری سفارتی مشاورت کیلئے چند منٹ قبل کوبورگ ہوٹل پہنچ گئے۔

ارنا نمائندے کے مطابق، باقری نے پہلی ملاقات میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کوارڈیٹنیر "انریکہ مورا" سے ملاقات اور گفتگو کی۔

نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین، پابندیاں اٹھانے کے معاملے پر گروپ 1+4 کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک گھنٹہ قبل کوبورگ ہوٹل پہنچ گئے اور اس سطح پر ملاقاتیں جاری ہیں۔

آج کی ملاقاتیں پابندیاں اٹھانے سے متعلق مذاکرات کے آٹھویں دور کا حصہ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ مذاکرات ایک نازک اور اہم مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مذاکرات کا حالیہ دور پیر، (27 دسمبر) کو شروع ہوا، اور مذاکراتی وفود کے مطابق، بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ مکالموں میں پیش رفت کے باوجود بعض غیر معمولی مطالبات اور بعض اوقات متن کو پیچھے دھکیلنے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں اور یہ مکالموں کی سست روی کی ایک وجہ بھی رہی ہے؛ اس سلسلے میں چند باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جبکہ دوسری طرف کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ایک طرف تو وہ میڈیا میں مسلسل "ڈیڈ لائن"، "ٹائم ٹیبل" اور "محدود وقت" سے متعلق بات نہیں کرسکتا، اور دوسری طرف مسلسل بدلتے ہوئے انداز اختیار کرکے حصول کی گئی پیش رفتوں میں نظر ثانی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

حالانکہ بعض مسائل کو تاخیر کا شکار کرنے کی کوشش کرنے اور فائدہ اٹھانے کے ذریعے دباؤ ڈالنے سے ایران کی مذاکراتی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور جیسا کہ پہلے بھی کئی بار کہا جاچکا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سرخ لکیروں اور اصولی مطالبات کو قربان نہیں کرے گا۔

 اسلامی جمہوریہ ایران نے ویانا مذاکرات میں شرکت پر رضامندی کے ساتھ اپنی زیادہ سے زیادہ ہمت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے اور مخالف فریقوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں گے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کریں گے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha