امریکہ کو ہخامنشی دور کے نادر خاکوں کو واپس کرنا ہوگا: ایرانی سفیر

نیویارک، ارنا - اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ کو مکمل طور پر اور بغیر کسی عذر کے ہخامنشی دور حکومت کے نادر خاکوں کو واپس کرنا ہوگا۔ 

مجید تخت روانچی نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ مکمل طور پر اور بغیر کسی بہانے کے ہخامنشی دور حکومت سے متعلق نادر خاکوں جو  غیرقانونی طور پر امریکہ میں ہیں، کو ایران کا حوالہ کرے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1311 کے شمسی سال)90 سال پہلے) میں 30 ہزار سے زائد نادر خاکوں کی دریافت کی گئی جن پر ایلامی اور میخی خط میں لکھائے گئے تھے۔ ان الواح کو اس وقت کی حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کام( قرض کے طور پر) کیلئے امریکہ کے شکاگو انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے سپرد دیا گیا لیکن ابھی بھی امریکہ نے ان اشیاء کو مکمل طور پر واپس نہیں کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خاکوں ایرانی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہیں۔ ملک اور ایرانی عوام سے متعلق ہیں ۔ تاہم، امریکہ ہمیشہ مختلف بہانوں سے انہیں واپس کرنے سے گریز اور اس عمل کو ملتوی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے ایران کی درخواست کو "واضح" قرار دیتے ہوئے کہا کہ  قرض کو مکمل، منظم اور محفوظ طریقے سے ایرانی حکومت کے حوالے کیا جائے۔

ہخامنشی دور کے نادر الواح کو 4 مرحلے میں بالترتیب 1327، 1350، 1383 اور 1398 کے شمسی سالوں میں امریکہ سے وطن واپس لایا گیا ہے لیکن ان خاکوں میں سے کچھ ابھی امریکہ میں موجود ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@ 

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha