ویانا مذاکرات میں فریقین اختلافات کو کم کر رہے ہیں: اعلی ایرانی مذاکرات کار

ویانا، ارنا – نابئب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور اور اعلی مذاکرات کار نے غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپنے تازہ ترین جائزے میں کہا ہے کہ مذاکرات کرنے والے فریقین کے درمیان اختلافات اب کم ہو رہے ہیں۔

یہ بات "علی باقری کنی" نے ہفتہ کے روز گروپ  4+1 کے وفود کے ساتھ کئی گھنٹے کی بات چیت کے بعد اور کوبرگ ہوٹل سے نکلنے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات ایک معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مذاکرات میں شریک تقریباً تمام وفود بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس طرح محتاط انداز میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس راستے میں آنے والی پیچیدگیوں اور اتار چڑھاؤ کے باوجود حتمی معاہدے کی طرف منفی کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔
روسی اعلیٰ مذاکرات کار نے بھی کہا تھا کہ مذاکرات کا عمومی ماحول مثبت ہے اور ہر وفود سنجیدہ ہے۔ ان کے بقول، دیگر وفود بھی مذاکرات کے بارے میں ایسے ہی جائزے رکھتے ہیں۔
 گروپ 4+1 وفود کے سربراہان باقری سے ملاقات کے بعد امریکی وفد کے خیالات کا تبادلہ کرنے میریٹ ہوٹل روانہ ہوئے۔
ویانا جوہری مذاکرات کا آٹھواں دور جو 29 نومبر کو شروع ہوا تھا اب ایک حساس موڑ پر پہنچ گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر ویانا میں کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو تمام پابندیاں ہٹانی ہوں گی اور اس کے اقدامات کی تصدیق کے بعد جوہری معاہدے کے فریم ورک میں ایران کے اقدامات کو نافذ کیا جائے گا۔
ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ دوسرا فریق پابندیوں کو ہٹانے میں جتنا سنجیدہ ہوگا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تجویز کردہ اقدامات کو قبول کرنے میں حتمی معاہدے کے حصول کے لیے درکار وقت اس کے مطابق کم ہوگا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha