باقری کا مذاکراتی عمل کا تازہ ترین جائزہ؛ بات چیت مثبت ہے اور آگے بڑھ رہی ہے

ویانا، ارنا- اعلی ایرانی مذاکرات کارنے ویانا میں پابندیوں کے خاتمے پر مذاکرات کے عمل سے متعلق تازہ ترین جائزے میں کہا ہے کہ مذاکرات مثبت اور آگے بڑھ رہے ہیں۔

ارنا نمائندے کے مطابق، ان خیالات کا اظہار "علی باقری کنی" نے بدھ کی رات کو کوبورگ ہوٹل میں داخلے سے پہلے اور دیگر فریقین سے مذاکرات کے آغاز سے قبل کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایک رپورٹر کی جانب سے حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت کے نتائج  سے متعلق میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

*** اعلی ایرانی سفارتکار کی اپنے کورین ہم منصب سے ملاقات

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سعید خطیب زادہ" نے کہا ہے کہ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور اور اعلی ایرانی سفارتکار علی باقری کنی ویانا میں اپنے کورین ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورین محکمہ خارجہ کے عہدیدار کی ویانا میں موجودگی ایک ذاتی فیصلہ ہے اور فریقین دو طرفہ اور کثیر الجہتی مسائل کی وجہ سے ویانا میں موجود رہنے کی درخواست کرتے ہیں۔

خطیب زادہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد سے ملاقات کی درخواست کورین کی طرف سے کی گئی ہے اور اس سلسلے میں نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی اپنے کوریائی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اور گروہ 1+4 کے درمیان مذاکرات کا کورین فریق سے ملاقاتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورین وفد نے ویانا میں کچھ وفود سے ملاقاتیں کیں اور ایسی ملاقاتیں عموماً ایسے اجلاسوں کے موقع پر معمول کی بات ہے۔

واضح رہے کہ ویانا مذاکرات کے آٹھویں دور کا 27 دسمبر میں آغاز کیا گیا اور 30 دسمبر کو نئے عیسوی سال کی چھٹیوں اور مذاکراتی ہالز کی بندش کی وجہ سے مذاکرات کا یہ دور  تین دن کے وقفے کے بعد آج بروز پیر کو از سر نو آغاز کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویانا مذاکرات کی کامیابی کی کلید ایران کیخلاف جابرانہ پابندیوں کے موثر خاتمے سے متعلق ایک معاہدے کا حصول ہے۔

واضح رہے کہ باقری کنی نے اس سے پہلے ارنا نمائندے سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر دوسرا فریق پابندیوں کو ہٹانے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے پابندیوں کی منسوخی کے طریقہ کار کو قبول کرنے خاص طور پر کم وقت میں تصدیق اور ضمانت کے دو معاملات میں سنجیدہ ہو تو ہم ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس کے اعلی مذاکرات کار نے بھی آج ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کیخلاف امریکی پابندیاں، مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں؛  لہذا ہمیں ویانا مذاکرات میں امریکی پابندیاں ہٹانے کے معاملے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha