باقری کنی کی جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کوارڈینیٹر سے ملاقات

ویانا، ارنا- ویانا مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ "علی باقری کنی" نے پابندیوں کی منسوخی پر مذاکرات کے آٹھویں دور کے دوسرے مرحلے میں اپنی گہری سفارتی مشاورتوں کے سلسلے میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کوارڈینیٹر "انریکہ مورا" سے ملاقات کی۔

پورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں فریقین آنے والے دنوں کے اجلاسوں اور گفتگو کے منصوبوں سے متعلق بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ ویانا مذاکرات کے آٹھویں دور کا 27 دسمبر میں آغاز کیا گیا اور 30 دسمبر کو نئے عیسوی سال کی چھٹیوں اور مذاکراتی ہالز کی بندش کی وجہ سے مذاکرات کا یہ دور  تین دن کے وقفے کے بعد آج بروز پیر کو از سر نو آغاز کیا گیا۔

ایک یورپی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ دو دوروں میں مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے، تمام وفود کا نقطہ نظر سنجیدہ تھا اور سب نے ایک دوسرے سے تعاون کیا۔

اس با خبر ذریعے نے مزید کہا کہ مذاکرات کاروں نے  پابندیوں اور جوہری مسائل پر تعمیری بات چیت کی اور وہ اختلافات اور نام نہاد قوسین کو کم کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

اس باخبر ذریعے کے مطابق، گزشتہ ہفتے کی بات چیت دو شعبوں میں پابندیاں ہٹانے کے معاملے اور تصدیق اور ضمانت پر مرکوز تھی۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہےاور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے بات چیت کی رفتار کو بڑھانا ہوگا۔

واضح رہے کہ  اعلی ایرانی سفارتکار علی باقری کنی نے پچھلے جمعرات کو نئے عیسوی سال کی چھٹیوں کی وجہ سے مذاکرات میں وقفے کے قریب ہونے پر ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہا کہ ویانا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں پابندیاں ہٹانے میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ مذاکرات کے آٹھویں دور کے آخری چند دنوں میں، بات چیت کا بنیادی محور پابندیاں ہٹانے پر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور دوسری فریقین کے درمیان متعدد شعبوں میں بات چیت جاری رہی، جس میں تصدیق کے معاملے پر کئی سیشنز بھی شامل ہیں؛ تصدیق اور ضمانت دینے کے حوالے سے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ڈپٹی سیکرٹری اور یورپی فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

باقری نے مزید کہا کہ پابندیاں ہٹانے کے میدان میں، دونوں فریقین کے درمیان خط و کتابت ہوئی اور آٹھویں دور کے پہلے چند دنوں میں نسبتاً اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha