امریکی ریاستی دہشت گردی بین الاقوامی قوانین کی ٹرائل ٹیبل پر ہے

تہران، ارنا- سابق امریکی صدر کیجانب سے 3 جنوری 2020 کو جنرل قاسم سلیمانی کا قتل کرنے کے براہ راست حکم کی بین الاقوامی قوانین کی مختلف پہلوؤں میں مذمت کی جا سکتی ہے، جن میں سب سے واضح فوجی جارحیت اور ریاستی دہشت گردی ہے۔

3 جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکہ اس وقت کے صدر ٹرمپ کے براہ راست حکم پر امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھی بشمول ابو مہدی المہندس شہید ہو گئے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے مضحکہ خیز اصطلاحات جیسے "جائز دفاع"؛ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا مضمون، اور "قبل از وقت دفاع" کے قانونی دلائل کا دعویٰ کرتے ہوئے اس وحشیانہ عمل کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکہ کا کمزور قانونی جواز اور بین الاقوامی قوانین کے ضابطوں کی صریح خلاف ورزی بالخصوص طاقت کے استعمال کی ممانعت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی ممانعت اس قدر واضح تھی کہ وکلاء اور سیاستدانوں  کیجانب سے اس امریکی جرم کی مذمت پر بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل (2) کے پیراگراف (4) کے مطابق؛ "تمام ممبران اپنے بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کے خطرے، یا کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے، یا اقوام متحدہ کے مقاصد سے متضاد کسی بھی طریقے سے گریز کریں گے"۔

مندرجہ بالا اصول کی واحد مستثنی سیلف ڈیفنس کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہے، جس میں کہا گیا ہے "اقوام متحدہ کے کسی رکن کی طرف سے مسلح جارحیت کی صورت میں، اس چارٹر کی کوئی بھی شق انفرادی یا سماجی جائز دفاع کے فطری حق کو اس وقت تک متاثر نہیں کرے گی جب تک کہ سلامتی کونسل بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات نہ کرے۔" دوسری مستثنی چارٹر کے باب 7 کا آرٹیکل 42 ہے۔

جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف امریکی ڈرون حملے کو مندرجہ بالا استثناء میں سے کسی کے ذریعے بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے چارٹر 7 کے آرٹیکل 2 کے مطابق؛ "چارٹر میں کوئی بھی چیز اقوام متحدہ کو ان معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو بنیادی طور پر کسی ریاست کی قومی اہلیت ہیں؛ اور نہ ہی یہ تنظیم کے ممبران کو اس چارٹر میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں کو طے کرنے کا پابند کرے گا، حالانکہ یہ اصول باب 7 میں فراہم کردہ جبری اقدامات کے نفاذ کو متاثر نہیں کرے گا۔"

چونکہ امریکی ڈرون حملہ عراق کے اندر ہوا ہے اور عراق اور امریکہ کے درمیان 2008 کے سوفا سیکورٹی معاہدے کی کسی بھی شق نے اس طرح کی کاروائیوں کی اجازت نہیں دی گئی ہے تو امریکی کارروائی کو عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اس ملک کے معاملات میں مداخلت اور کسی تیسرے ملک کی مسلح افواج کے رکن کے خلاف فوجی کارروائی کی کوشش کے معاملے میں قرار دیا جا سکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha