داعش کو شکست دینے میں جنرل سلیمانی جیسا بڑا کوئی کارگر ثابت نہیں ہوا: یورپی اہلکار

لندن، ارنا – یورپی پارلیمنٹ کے ایک آئرش رکن نے کہا ہے کہ جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی داعش دہشتگردوں کے عروج اور جہادی گروہوں کو مسلح کرنے کے ذمہ دار تھے داعش کو شکست دینے میں جنرل سلیمانی جیسا بڑا کوئی کارگر ثابت نہیں ہوا۔

یہ بات "میک والاس" نے بدھ کے روز قدس فورس کے کمانڈر جنرل حاج قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر کہی۔
اس موقع پر انہوں نے سلیمانی کے بارے میں بیلجیم میں ایرانی سفارت خانے کے ٹویٹر پیغام کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عالمی برادری کی مذمت کہاں تھی کہ انہیں امریکہ نے مارا؟
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے امریکی غیر قانونی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس کارروائی میں ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار کو نشانہ بنایا گیا جو کہ ایک خودمختار ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کے مضبوط شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ جنرل سلیمانی کو لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا، یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی اور عالمی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ ہے۔
ایرانی سفارت خانے نے ٹویٹ کیا کہ جنرل سلیمانی ایک ہیرو تھے جنہوں نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کام کیا اور وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کے خلاف مضبوط گڑھ تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری 2020 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔  
ٹرمپ نے اس ہوائی حملہ اور جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha