7 دسمبر، 2021 11:30 AM
Journalist ID: 2393
News Code: 84568507
T T
0 Persons
ایران میں قومی یوم طلباء، سامراج اور آمریت مخالف کا دن

تہران، ارنا – ایران میں 16 آذر( 7 دسمبر ) کو یوم طلباء کے نام سے رکھا گیا ہے۔

7 دسمبر 1953 کو ایران کے طلباء و طالبات نے اس وقت کے امریکہ کے نائب صدر رچرڈ نکسن کی ایران کے دورے کے موقع پر واشنگٹن کی ایران کے داخلی امور میں مداخلت کے خلاف تہران یونورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلباء کے مظاہرے پر شاہ کی حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 طلباء شہید اور سینکڑوں افراد شدید زخمی ہوئے۔ اس روز کے بعد سے ایران میں امریکی مداخلت پر طلباء و طالبات کی جدوجہد کے عنوان سے اس دن کو یوم طلبہ کا نام دیا گیا ہے۔

مصطفیٰ بزرگ نیا/احمد قندچی اور آذر شریعت رضوی تین شہید طالب علم ہیں جنہیں پہلوی حکومت نے 7 دسمبر 1953 کو اس وقت کے امریکی نائب صدر نکسن کے دورے کے احتجاج کی وجہ شہید کر دیا۔

ایران کے طلباء و طالبات اس دن یعنی عالمی استکبار سے مقابلے کے قومی دن کی مناسبت سے ہر سال سامراج کے خلاف اپنے اتحاد و یکجہتی اور قومی اقتدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سامراج اور استکبار مخالف نعرے لگاتے ہیں اور مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں- 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یوم طلبہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ طلباء کی تحریک کا کردار ہمارے ملک میں کم از کم ایسا ہے- شاید دوسرے بہت سے ممالک میں بھی ایسا ہوئے- جو استکبار مخالف، تسلط مخالف، آمریت مخالف اور انصاف کے حامی ہو.

اس تحریک کا آغاز 16 آذر( 7 دسمبر) ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی ایک گھنٹہ قبل یوم طلباء کی تقریب میں شرکت کے لیے ایران کی مشہور یونیورسٹیوں میں سے ایک 'شریف یونیورسٹی' پہنچ گئے۔

صدر رئیسی نے صنعتی شریف یونیورسٹی میں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے اس یونیورسٹی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@  

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha