ایران شام اقتصادی لین دین کو کئی گنا کرنے کا امکان ہے: علامہ رئیسی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایران اور شام کے تعلقات کو اسٹرٹیجک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کے حجم کو بڑھانے کی بے پناہ صلاحیتیں ہیں جن کو بروئے کار لانے سے دونوں ملکوں کی اقتصادی لین دین کو کئی گنا کرسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز پیر کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے "فیصل مقداد" سے ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی میدان میں دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تہران- دمشق کے طویل المدتی اور کثیر الجہتی تعلقات کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی جس کی بنیاد پر اپنی قوموں کے مفاد کے سلسلے میں بالخصوص اقتصادی میدان اقدامات اٹھائیں۔

ایرانی صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کی سطح کو مطلوبہ سطح سے بہت زیادہ کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور شام کے درمیان اقتصادی تعلقات کے حجم کو بڑھانے کی بے پناہ صلاحیتیں ہیں جن کو بروئے کار لانے سے دونوں ملکوں کی اقتصادی لین دین کو کئی گنا کرسکتے ہیں۔

علامہ رئیسی نے شام اور خطے میں غیر ملکی فوجیوں کی غیر قانونی موجودگی کو خطی کے امن اور استحکام کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے داعش کی تشکیل دی ہے اور داعش اور امریکہ کے علاقے کے کسی بھی کونے میں موجودگی، علاقائی قوموں کی سلامتی کیلئے تباہ کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے شہدا جیسے حاج قاسم سلیمانی نے خطے میں امریکہ اور اس کے پرواکسی وار جنگیں کرنے والوں بشمول داعش اور صہیونیوں کو ہتیھار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔

رئیسی نے شام کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور علاقائی معاملات میں اس کی شاندار موجودگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج شام، صیہونیوں کے خلاف مزاحمت میں سب سے آگے ہے اور تاریخ، بزدلانہ حملوں کے خلاف شامی عوام اور حکومت کی قابل تعریف مزاحمت کو فخر کے ساتھ درج کرے گی۔

ایرانی صدر نے شام کی قومی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے کہا کہ کسی بھی ملک کی طرف سے ملکوں کی قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے اور شامی عوام یقیناً اسے برداشت نہیں کریں گے۔

دراین اثنا شام کے وزیر خارجہ نے صدر بشار الاسد کے پیغام  و ایرانی صدر کا حوالہ کرتے ہوئے علامہ رئیسی کو دورہ شام کی دعوت دی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک، دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کی بنا پر تہران-دمشق تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون کے لیے تمام صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فیصل مقداد نے کہا کہ شامی عوام اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور مدد کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شام دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مستحکم اور مضبوط تعلقات کے تسلسل پر زور دیتا ہے اور اس سمت میں شہید حاج قاسم سلیمانی کا خون دونوں ممالک کے درمیان گہرے رشتے کی ضمانت دیتا ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ شہید سلیمانی ہم سب کا ہے؛ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہیں بھولیں گے۔

شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ خطے کے بعض ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں انتہائی شیطانی طریقے استعمال کرتا ہے اور ان کی بے عزتی اور تذلیل کرکے خطے میں صیہونیوں کی بالادستی کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شامی عوام کی مزاحمت اور مزاحمتی محاذ سے خطے میں امریکہ، صیہونی ریاست اور اس کے اتحادیوں کے منصوبے ناکام ہو گئے ہیں اور آج ان کو پتہ چل گیا ہے شام ناکام نہیں ہوگا اور انہوں نے اپنا نقطہ نظر بدل لیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha