ایرانی مطالبات جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق ہیں: پاکستانی میڈیا

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی اخبار ڈان نے جوہری معاہدے کو کمزور کرنے کے لیے امریکی یکطرفہ نقطہ نظر اور یورپ کے کچھ نہ کرنے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے مطالبات جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق ہیں لہذا دوسری فریق کو ویانا مذاکرات میں منطقی آپشنز میز پر رکھنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ڈان میں اشاعت کیے گئے اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ویانا مذاکراتی ٹیم کے سربراہاں، اپنی اپنی دارالحکومتیں واپس گئے تا کہ حالیہ مذاکرات کے نتائج کا جائزہ لے کر پھر سے ویانا میں مذاکرات کا از سر نو آغاز کریں گے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تھی اور واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ یکطرفہ پابندیاں عائد کردی تھیں حالانکہ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کے 2015 کے معاہدے کی بحالی کے مطالبات، جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق ہیں۔

اس پاکستانی اخبار نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یورپی فریق کے موقف کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران، جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے تمام ایران مخالف پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ یورپ نے امریکہ کے یکطرفہ اور جلد بازی کے اقدام کے خلاف کچھ نہیں کیا اور اس نے ایران کی عملی طور حمایت کے بجائے صرف باتیں کیں۔

ڈان نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے  کے مغربی اراکین کی وعدہ خلاقیوں نے ایران کو ان کے بارے میں مشکوک بنا دیا ہے؛ دوسری طرف صہیونی ریاست اپنے غیر ذمہ دارانہ موقف کے ساتھ مغرب پر زور دے رہی رہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات نہ کرے، جبکہ اس طرح کی کوششیں، امن اور جوہری معاہدے کی بحالی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس پاکستانی اخبار نے مزید کہا کہ تہران نے مغرب کو دھمکیوں کیخلاف خبردار کیا ہے اور چینی بھی یورپی فریق پر منافقت کا الزام لگاتے ہیں، اس لیے یورپ اور امریکہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف دھمکیاں دینا بند کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ، بین الاقوامی برادری پر فرض ہے کہ وہ باغی عناصر جو مذاکرات کو روکنے کے خواہاں ہیں، کو نظر انداز کرے اور انہیں بین الاقوامی اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha