ایران نے سنجیدہ عزم اور واضح ایجنڈے سے ویانا مذکرات میں حصہ لیا ہے: امیر عبداللہیان

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے جاپانی ہم منصب سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، اس بات پر زور دیا کہ ہم نےسنجیدہ عزم اور واضح ایجنڈے سے ویانا مذاکرات میں حصہ لیا ہے لیکن ہم امریکہ اور تین یورپی ممالک کے نیک نیتی اور عزم سے متعلق پُرامید نہیں ہیں۔

رپورٹ ک مطابق، "حسین امیر عبداللہیان" نے آج کی رات کو "ہایاشی یوشیماسا"سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، باہمی دلچسبی امور سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

دراین اثنا ایرانی وزیر خارجہ نے ہایاشی کو جاپانی وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جاپان کیجانب سے ایران کو انسان دوستانہ امداد بھیجنے کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ایران میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اب تک ڈھائی ملین افغان مہاجرین کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں اور ایران افغانستان کے لوگوں کے لیے جاپانی انسانی امداد بھیجنے پر تیار ہے۔

امیرعبداللہیان نے موسم سرما کے موقع پر افغانستان میں ابتر انسانی صورتحال پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس ملک میں انسان دوستانہ امداد بھیجنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو اس صورتحال میں افغان عوام کی مدد کرنی ہوگی اور ہم فضائی یا زمینی راستے سے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امیر عبداللہیان نے  وطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور معیشت، تجارت، انسان دوستی، ماحولیات اور صحت کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم سنجیدہ مذاکرات اور اچھے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دوسرے فریقین کو اپنے نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سنجیدہ عزم اور واضح ایجنڈے سے ویانا مذاکرات میں حصہ لیا ہے لیکن ہم امریکہ اور تین یورپی ممالک کے نیک نیتی اور عزم سے متعلق پُرامید نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا  امریکی حکام ایک طرف سے مذاکرات کرکے جوہری مذاکرات کی واپسی کے خواہاں ہیں مگر دوسری طرف سے وہ ایرانی افراد اور اداروں پر اسی وقت نئی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج برآمد ہوں اور مغربی فریقین مذاکرات کی میز پر اور عملی طور پر اپنی سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں۔

اس ٹیلی فونک گفتگو میں جاپانی وزیر خارجہ نے صحت، ماحولیات، سیاحت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں جاپان کی ہنگامی امداد بھیجنے کا خیرمقدم کیا۔

ہایاشی نے افغانستان میں ایک جامع حکومت کا قیام، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کا احترام کرنے سمیت انسداد دہشتگردی پر زور دیا۔

انہوں نے ویانا مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکرات میں باہمی طور پر قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے فریقین کے نرم سلوک اپنانے پر زور دیا۔

جاپانی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو دورہ جاپان کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha