ایران نے اپنے تجویز کردہ متن کو ویانا میں پیش کیا: باقری کنی

ویانا، ارنا- ویانا مذاکرات میں ایرانی وفد کے اعلی مذاکرات کار نے  ہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی تجویز کردہ متن کو جوہری مسائل اور ظالمانہ پابندیوں کی منسوخی کے فریم میں پیش کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار نائب ایرانی وزیر خارجہ اور اعلی ایرانی سفارتکار "علی باقری کنی" نے آج بروز جمعرات کو ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آج مذکرات کے چوتھے دن کا آغاز کیا ہے اور گزشتہ دنوں کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد نے 1+4 گروہ کے دیگر فریقین کے وفود سے متعدد باہمی اور چند فریقی اجلاسوں کا انعقاد کیا۔

علی باقری کنی نے مزید کہا کہ یہ ملاقاتیں ہفتے کے روز ویانا میں ہوئیں اور کل رات تک جاری رہیں۔ آج ہمارے پاس کچھ اور سیشنز ہیں۔ میں نے روس اور چین کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ نیز تین یورپی ممالک اور یورپی یونین کے وفود کے سربراہوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوئیں اور آج بھی ان سے ایک اور ایک ملاقات کروں گا۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ ہم نے ان ملاقاتوں میں مذاکرات کے اس دور کے مرکزی مسائل، خاص طور پر غیر قانونی اور جابرانہ پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے، اور اپنے موقف کو واضح کرنے کے لیے درکار معیارات کا پیش کیا۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے سوالات بھی اٹھائے اور کچھ ابہام بھی تھے جن کو دور کرنے اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش ان ملاقاتوں میں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے مطابق، ہم نے کل رات دوسرے فریق کو دو دستاویزات پیش کیں جن میں سے ایک پابندیوں کے خاتمے کے معاملے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خیالات کی دستاویز اور ایران کے جوہری اقدامات کے معاملے پر ایک اور دستاویز شامل تھیں۔

باقری کنی نے کہا کہ بلاشبہ دوسرے فریق کو ان دستاویزات کا جائزہ لینا ہوگا اور فراہم کردہ متن پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان مکالموں کے متنوع اور متعدد بین الاقوامی اثرات ہیں۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے دوسرے اداکار جو ان مکالموں کے میدان سے باہر ہیں یا ڈائیلاگ میں کچھ اداکاروں کے ذریعے براہ راست بات چیت کے عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور معاہدے تک پہنچنے کے راستے اور تعمیری مکالموں کی راہ میں خلل ڈالتے ہیں، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کل 1+4 کے وفود کے مختلف نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات خبردار کیا ہے کہ مذاکرات سے باہر اداکاروں کے خیالات اور نقطہ نظر کو مذاکراتی عمل پر منفی اثرات مرتب کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دوسری فریقین، اسلامی جمہوریہ ایران کی تجاویز پیش کرنے کے بعد وہ جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے تاکہ جمع کرائی گئی دو دستاویزات پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسری طرف سے کہا کہ ہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں اور ہم بات چیت جاری رکھنے کے لیے ویانا میں ہیں؛  انہیں ان دستاویزات کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے جو ہم نے انہیں فراہم کیے ہیں۔ اگر وہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں تو ہمیں اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

باقری کنی نے کہا کہ آج، ہم دیگر فریقین سے رابطے میں رہیں گے اور ان دستاویزات کے جائزے کی حیثیت اور ٹائم ٹیبل کا تعین اسلامی جمہوریہ ایران اور گروہ 1+4 کے نمائندوں کے درمیان ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں کیا جائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha