قومی کرنسی اور بارٹر سسٹم کے طریقوں سے پاک ایران تجارتی تعلقات میں رونقیں بڑھنے لگیں گی

اسلام آباد، ارنا- بارٹر سسٹم میکنزم کی ترقی، ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ میں ایک نئی چھلانگ ہے جس کا دونوں ممالک کے تاجروں اور نجی شعبوں نے خیر مقدم کیا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی کرنسی کے استعمال کی ایران کی تجویز جلد ہی مشرقی پڑوسی کیساتھ تجارت کی حمایت کا ایک نیا روڈ میپ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق،  پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری کے امور کے حالیہ دورہ ایران اور دونوں ممالک کی مشترکہ تجارتی کمیٹی کے نویں اجلاس کے انعقاد کے بعد ایران اور پاکستان کے درمیان بارٹر سسٹم کے طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔

ایران کی اپنے مشرقی پڑوسی کے ساتھ موثر طریقوں، خاص طور پر بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے کے لیے کئی سالوں کی تیاری کے پیش نظر، -جس میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوگا- اب کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فریق اس طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔

دریں اثنا، پاکستان میں اقتصادی اداروں، چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبوں نے بھی حکومت سے بارٹر سسٹم  میکنزم کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی پاکستان کے مرکزی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی تجارت بالخصوص پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرے۔

پاکستان میں چیمبرز آف کامرس نے بارہا ایران اور پاکستان کے درمیان قومی کرنسیوں کے استعمال کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینکنگ سسٹم کی عدم موجودگی دو طرفہ تجارت میں اضافے اور باہمی تجارت میں اضافے کے حصول میں دونوں ممالک کے تاجروں کی مشکلات میں اضافے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان دنیا میں چاول برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ چاول کی کاشت 2.89 ملین ایکڑ پر پھیلے ہوئے اراضی پر کی جاتی ہے جو کہ پاکستان کی کُل قابل کاشت زمین کا 10 فیصد ہے اور صرف 2019 میں اس کی برآمد کی مالیت کی شرح 2 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔

ایران اور پاکستان کے درمیان بارٹر سسٹم کے طریقہ کار کی مضبوطی خاص طور پر ایران کی مشرقی پڑوسی کی مختلف مصنوعات کی ضروریات بشمول ایندھن اور پیٹرولیم کو پورا کرنے کی تیاری، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کی ترقی کی ایک نئی چھلانگ ہے؛ اس کے علاوہ، تاجروں کے درمیان مقامی کرنسی کے استعمال کی ایران کی تجویز ایرانی پاکستانی معیشت کی تقویت میں مددگار ہوگی۔

قومی کرنسی اور بارٹر سسٹم کے طریقوں سے پاک ایران تجارتی تعلقات میں رونقیں بڑھنے لگیں گی

اس سلسلے میں پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے پنجاب میں "منڈی بہاؤالدین" چیمبر کے تاجروں اور کاروباری کارکنوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تجارت میں مقامی کرنسی کے استعمال کی ایرانی تجویز کا اعلان کیا۔

"سید محمد علی حسینی" نے بہاء الدین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایم بی سی سی آئی) کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال پر کام جاری ہے اور اس سلسلے میں ایران کے مرکزی بینک نے پاکستانی فریق کو ایک مسودے پیش کیا ہے اور ہم اس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت میں، سامان کے بدلے صرف سامان کا تبادلہ ہوتا ہے اور پیسے کا تبادلہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارت کو آسان بنانے کے لیے مقامی کرنسی کا استعمال دونوں ملکوں کے تاجروں کی مدد اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے ایک نیا روڈ میپ ہو سکتا ہے۔

حسینی نے پاکستان سے زرعی مصنوعات، چاول، لائیو سٹاک مصنوعات، ٹیکسٹائل مصنوعات، کھاد اور کیڑے مار ادویات درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ اعلی معیار اور کم لاگت والی مصنوعات، ایران سے پاکستان کو برآمد کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا، جن میں ھٹی پھل، گری دار میوے، زعفران، جڑی بوٹیوں کی ادویات شامل ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایندھن اور گیس کی مصنوعات برآمد کرکے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سفیر نے بہاؤالدین چیمبر آف کامرس کی جانب سے صنعت، آٹوموٹو اور توانائی کے شعبے میں ایرانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ  بارٹر سسٹم میکنزم ایران سے اس ملک کو بجلی کی برآمد اور پاکستانی چاول کو ایران میں درآمد کی صورت میں ہوجاتی ہے اور اس عمل کو ترقی دی جائے گی۔

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے دو باضابطہ سرحدوں کے دوبارہ کھلنے اور دونوں ممالک کے درمیان چھ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام کے معاہدے کو گزشتہ سال کے دوران اچھے اور اطمینان بخش واقعات قرار دیا اور مزید کہا پاکستانی سامان کی ایران سے ترکی، آذربائیجان اور یورپ تک ترسیل جاری ہے اور اور یہ پاکستانی تاجروں کے لیے محفوظ راستہ ہوگا۔

انہوں نے ایران پاکستان چیمبرز آف کامرس کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت گہرے ہیں اور ہم پاکستان کی ترقی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی سمجھتے ہیں۔

قومی کرنسی اور بارٹر سسٹم کے طریقوں سے پاک ایران تجارتی تعلقات میں رونقیں بڑھنے لگیں گی

واضح رہے کہ ایرانی تیرہویں حکومت کا زور اور ترجیح پڑوسی ممالک کے ساتھ برآمدات کی ترقی ہے؛ اس معاملے کا حالیہ مہینوں میں پاکستانی وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے مشیر کے دورہ ایران کے دوران اٹھایا گیا تھا اور دونوں ممالک کے اعلی حکام کے درمیان ایران کے مشرقی پڑوسی کیساتھ تعلقات کے لیے اقتصادی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

پاکستان کی ایران سے زمینی سرحد 900 کلومیٹر سے زیادہ  ہے جو عراق کے بعد ایران کیساتھ سب سے لمبی سرحد ہے؛ تاہم ابھی تک بہت سے ایرانیوں، خاص طور پر اقتصادی کارکنوں اور تاجروں کو اس کی صلاحیتوں سے پوری طرح واقفیت حاصل نہیں ہے لہذا اس ملک میں سامان کی مارکیٹنگ اور برآمد پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

ایران اور پاکستان کے اقتصادی اداکاروں اور تاجروں کی باہمی صلاحیتوں سے واقفیت ناگزیر ہے اورعلاقائی اور اقتصادی سفارت کاری کو بروئے کار لانا، دونوں ممالک کے لیے بہت سے اثرات اور برکتیں لائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha