عالمی برادری امریکہ کے نام نہاد جمہوری ممالک کا سربراہی اجلاس کی مذمت کرے

تہران، ارنا- ایران میں امریکی پابندیوں کیخلاف مقدمہ دائر کرنے کی ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار مریضوں کی کیس کے وکیل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادوں کے مطابق، امریکہ کے زیر اہتمام میں دکـھاوے کیلئے جمہوری ممالک کا سربراہی اجلاس کے انعقاد اور اس میں امریکی جبر کے تسلسل کی مذمت کرے۔

رپورٹ کے مطابق "رسول تقدسی" جو ایران میں ای بے بیماری کا شکار 295 مریضوں کی امریکی پابندیوں کیخلاف مقدمہ دائر کرنے کی کیس کے وکیل ہیں، نے ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ان بیماروں کو ادویات تک رسائی کو روکنے کا امریکی غیر انسانی اقدام کا ذکر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو پیدائش کے وقت حاصل کیے جاتے ہیں اور حکومتوں اور طاقتوں سے آزاد ہوتے ہیں۔

تقدسی نے کہا کہ انسانی حقوق، تمام انسانوں کے حقوق ہیں اور چونکہ تمام انسان بین الاقوامی برادری کے رکن ہیں اس لیے ان کے حقوق کو ہر جگہ یکساں طور پر استعمال کیا جانا ہوگا۔ لیکن بڑی افسوس کی بات ہے کہ امریکی یکطرفہ اقدام نے ایران اور دنیا میں بہت سے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔

انہوں نے امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے معیشت، صحت اور لوگوں کی روزی روٹی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے عائد کردہ یکطرفہ ایران مخالف پابندیوں کے ایرانیوں کے زندگی کے حق پر منفی اور ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق، پابندیوں نے صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے میں خلل ڈال کر لاعلاج بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو درکار ادویات کی درآمد کو روکنے سے اموات کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔

تقدسی نے کہا کہ مخصوص مریضوں، خاص طور پر تھیلیسیمیا، کینسر،ایم ایس، ای بے، ملٹیپل سکلیروسیس کے مریضوں کے لیے ادویات، ڈائیلاسز مشینوں کے اسپیئر پارٹس، بیٹریاں اور دل کے والوز، مختلف قسم کے طبی مصنوعی اعضاء اور دیگر بہت سی اشیاء اور ادویات ہیں جو امریکی دعووں کے برعکس ان کیخلاف ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کی وجہ سے  ان بیماریوں کا شکار افراد کو بہت سارے مشکلات کا سامنا ہوا ہے۔

تقدسی نے امریکہ کے زیر اہتمام میں منعقدہ جمہوری ممالک کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن اور سلامتی کا مطلب؛ خودمختاری کے اصولوں کا احترام، حقوق کی مساوات، ریاستوں اور ان کے نمائندوں کے تحفظ کا احترام، ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کا پُرامن حل ہے۔

ایران میں امریکی پابندیوں کیخلاف مقدمہ دائر کرنے کی ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار مریضوں کی کیس کے وکیل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادوں کے مطابق، امریکہ کے زیر اہتمام میں دکـھاوے کیلئے جمہوری ممالک کا سربراہی اجلاس کے انعقاد اور اس میں امریکی جبر کے تسلسل کی مذمت کرے۔

واضح رہے کہ امریکی معاشی پابندیوں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کیلئے جون مہینے میں ایران کے ای بے ہاؤس اور متعدد مقامی وکلاء کے ذریعے سوئڈن کے نیشنل سینٹر کال میں مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی کیخلاف شکایت درج کی گئی۔

سویڈن میں قائم مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران کیخلاف امریکی یکطرفہ پابندیوں کی پیروی کرتے ہوئے ایرانی درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کی صحت اور زندگی کے لئے "ضروری ڈریسنگ" سمیت ادویات اور طبی سامان کی فروخت بند کردی۔

ان ڈریسنگز کی فروخت بند ہونے اور کو ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کو اس ضروری طبی مصنوعات تک رسائی سے محروم رکھنے کے بعد، ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر بچے، جان کی بازی ہارگئے اور دوسروں کو شدید جسمانی نقصان جیسے امپیوٹیشن سامنے آئیں۔

لہذا امریکی معاشی پابندیوں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کیلئے ایران کے ای بے ہاؤس اور متعدد مقامی وکلاء کے ذریعہ سوئڈن کے نیشنل سینٹر کال میں مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی کیخلاف شکایت درج کی گئی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha