کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی رکنیت

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران پیر کے روز 29 نومبر کو دی ہیگ میں منعقدہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے رکن ممالک کی 26ویں سالانہ کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بن گیا ہے۔

ایران گزشتہ روز 29 نومبر کو دی ہیگ میں منعقد ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے رکن ممالک کی 26ویں سالانہ کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بن گیا ہے۔

دی ہیگ میں ایرانی سفارت خانے کی رپورٹ کے مطابق، ایگزیکٹو کونسل کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے اور اس کے 241 ارکان ہیں۔

ایران اس تنظیم کی 26ویں کانفرنس میں متفقہ طور پر ایگزیکٹو کونسل کا رکن بن گیا ہے جبکہ حالیہ برسوں میں، امریکہ اور واشنگٹن کے اتحادی بعض ممالک نے اپنے اراکین پر دباؤ ڈال کر ہمارے ملک کو ایگزیکٹو کونسل کا رکن بننے اور اس تنظیم کے عہدوں پر فائز ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

ایران اب اس کونسل کے ایشیائی نائب سربراہ  کے عہدے پر فائز ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور استعمال کی ممانعت کیلیے سب سے اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے 13 جنوری 1993 کو حتمی شکل دی گئی اور 29 اپریل 1997 کو نافذ العمل ہوا۔ اس وقت 193 ممالک نے کنونشن میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پیر کے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ عراق، پاکستان اور ملائیشیا بھی 2022 سے 2024 تک کے لیے ایگزیکٹو کونسل کے رکن بن گئے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@  

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha