30 نومبر، 2021 11:24 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 84560527
0 Persons
اچھے معاہدے کے حصول میں سنجیدہ ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور تین یورپی ممالک کی بدعہدی اور بے عملی کے باوجود تہران نے نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ ویانا مذاکرات میں شمولیت اختیار کی ہے اور ایک اچھا معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بات "حسین امیرعبداللہیان" نے پیر کی رات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انتونیو گوٹریش" کے ساتھ ایک ٹیلی فونگ رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
دونوں فریقوں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور کا جائزہ لیا جن میں افغانستان میں پیش رفت اور ویانا میں جوہری مذاکرات شامل ہیں۔
امیرعبداللہیان نے دیگر فریقین سے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی تعمیل کرنے کا مطالبہ کیا، اس کے بعد ایران اپنے اصلاحی اقدامات کو روک دے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ قابل تصدیق ہونا چاہیے۔
انہوں نے تہران میں آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی اور ایرانی ایٹمی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کے درمیان تعمیری بات چیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران آئی اے ای اے کے ساتھ تکنیکی تعاون جاری رکھے گا۔
امیر عبداللہیان نے مذاکرات کے پچھلے چھ دوروں کے انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان مذاکرات کو نظر انداز نہیں کرتے، لیکن نئی حکومت کے طور پر، ہم اپنے تحفظات کے ساتھ متنازعہ مسائل کا جائزہ لینے اور ان پر بات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
گوٹیرش نے اپنی طرف سے ویانا مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق پر ایران کی درخواست منطقی ہے۔
انہوں نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ان کی کوششوں کی ضرورت اور معاہدے کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی ہر طرح کی حمایت پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے افغانستان کے مسائل پر بات کی۔
امیر عبداللہیان نے ایک جامع حکومت کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے سردی کے موسم کے موقع پر خطرناک انسانی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امیگریشن بحران، افغان عوام کے مالی وسائل پر پابندیاں اور داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو افغانستان میں بحران کی وجوہات میں سے ہے۔
گوٹریش نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر بحران خصوصاً انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملکی معیشت میں لیکویڈیٹی داخل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
 انہوں نے مزید کہا کہ ہم پابندیوں کے باوجود عالمی بینک اور کئی دیگر ممالک کی مدد سے ایک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قیام کے ذریعے افغان معیشت میں لیکویڈیٹی داخل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha