ایک اچھے اور فوری معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے: ایرانی وزیر خارجہ

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر دوسرے فریق اپنے مکمل وعدوں پر واپس آنے اور ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہوں تو ایک اچھا، حتیٰ کہ فوری معاہدہ ممکن ہے۔

یہ بات "حسین امیرعبداللہیان" نے جمعہ کے روز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بورل کے ساتھ ایک ٹیلی فونگ رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ایرانی اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ اگرچہ امریکہ اور تین یورپی ممالک نے جوہری معاہدے سے انکار کیا، ایران نیک نیتی کے ساتھ ویانا، آسٹریا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا اور ایک اچھے، قابل تصدیق معاہدے کا خواہاں ہے، اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا اس کی تمام شرائط کی تعمیل ہونا چاہیے.
امیرعبداللہیان نے اس معاہدے کے رابطہ کار کے طور پر بورل کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ان تمام مسائل پر غور کرے گی جنہیں طے کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ واضح ہے کہ اس سال کے شروع میں ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے چھ دوروں کے بعد کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سنجیدہ، کافی یقین دہانیاں ہونی چاہئیں کہ ناقابل اعتماد امریکہ ایک بار پھر ممکنہ معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے متضاد رویے اور ان کے قول و فعل میں تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کے لیے آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی اداروں اور افراد کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو ہٹانے کے لیے سنجیدہ عزم اور اقدامات کو دیکھنا چاہیے، مغرب کو ایک نئے اور تعمیری انداز کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں شرکت کرنی چاہیے۔
جوزپ بورل نے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کوآرڈینیٹر کے طور پر اس معاہدے کے تمام شرکاء کے ساتھ اپنے رابطوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ویانا میں پڑنے والے مسائل اور پابندیوں کو ہٹانے پر گہری، تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ تمام شرکاء جوہری معاہدے کی اصل شکل میں واپس آسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کو ہٹانے کا واحد راستہ اس معاہدے کا احیاء ہے اور اس طرح ایران اپنے حقوق کا دوبارہ دعویٰ کر سکتا ہے اور دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کے بارے میں یقین دلایا جا سکتا ہے۔
بورل نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تمام فریق ایک مثبت، عملی نقطہ نظر اور غیر حل شدہ مسائل پر بات چیت کرنے اور پابندیوں کو ہٹانے کے لیے مضبوط عزم کے ساتھ ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha