جنرل سلیمانی کے قتل کی تحقیقات کا اجلاس بغداد میں ختم ہو گیا

تہران، ارنا – نائب ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے انسداد دہشت گردی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس کے پہلے دور بغداد میں ختم ہوگیا۔

یہ بات "کاظم غریب آبادی" نے جمعرات کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ بغداد اجلاس کے مذاکرات کا مشترکہ بیان پانچ معاہدوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔
غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی اور عراقی عدلیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات اور تہران کے پراسیکیوٹر آفس کی کوششوں کے بعد ایران کا قانونی اور عدالتی بورڈ دو دن پہلے پہلی نشست میں شرکت کے لیے بغداد روانہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور آج ختم ہوا اور فریقین نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی کے اجلاس کا دوسرا دور آئندہ ماہ تہران میں منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اس دور کے اختتام پر دونوں وفود کے سربراہوں نے ایک مشترکہ بیان پر بھی دستخط کیے جس میں اس جرم کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین جرم اور عراق کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی نقطہ نظر سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ جرم کا ارتکاب عراقی حکومت کی دعوت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی پیغام کو پہنچانے کے لیے شہید سلیمانی کے عراق کے سرکاری دورے کے دوران کیا گیا تھا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha