آئی اے ای اے کیساتھ معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے: امیرعبداللہیان

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔

یہ بات "حسین امیرعبداللہیان" نے بدھ کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے ساتھ اپنی کل ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں مسٹر گروسی کے ساتھ دوستانہ، صاف اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔
امیرعبداللہیان نے کہا کہ ہم نے تعاون کے شعبوں کو جاری رکھنے کے حوالے سے اچھے سمجھوتوں پر پہنچ گئے ہیں لیکن حتمی متن تک پہنچنے کے لیے کچھ شرائط پر مزید کام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ متن کو حتمی شکل دینے کے لیے جلد مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے، تکنیکی مسائل کی سیاست کرنا ایک غیر تعمیری اقدام ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ورچوئل اسپیس پر اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ گروسی کے دورہ تہران کے دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا تھا اور ہم پہلے ممکنہ موقع پر بیان جوائنٹ جاری کرنے کی پیروی کر رہے ہیں۔ ۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے منگل کے روز تہران کا دورہ کیا، جو تقریباً ڈھائی ماہ میں دوسرا دورہ تھا، جس کے دوران انہوں نے ایرانی صدر کے معاون اور ایرانی ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی سے ملاقات کی۔
اس تنظیم کے سربراہ نے پہلی بار وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ بات چیت کی جس میں ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امیر عبداللہیان نے گروسی کے ساتھ بات چیت کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدے کے فریم ورک کے اندر تعمیری طور پر نمٹنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی سنجیدہ خواہش کا اعادہ کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید بڑھانے کی امید ظاہر کی۔ اس دورے کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ، IAEA کی پیشہ ورانہ اور غیر جانبدارانہ کارکردگی کی اہمیت اور بیرونی سیاسی دباؤ پر توجہ نہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha