ایران کا امریکہ کیجانب سے عالمی عدالت انصاف کے اصولوں کیخلاف ورزی پر افسوس کا اظہار

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب اور سفیر نے اختلافات کے پُرامن طریقے کے حل پر عالمی عدالت انصاف کے بنیادی اور موثر کردار پر زور دیتے ہوئے امریکہ کیجانب سے عالمی عدالت انصاف کے اصولوں کیخلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرلیا۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے آج بروز جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پُرامن طریقوں سے بحرانوں میں کمی اور تشدد کی روک تھام کیلئے عالمی عدالت انصاف کے کردار کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف، بین الاقوامی نظم و ضبط کے تحفظ اور یکطرفہ اقدامات کی روک تھام سے قانون کے حکمرانی کی تقویت کرتی ہے۔

تخت روانچی نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے دو جاری ایرانی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے، مقدمات کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ میں قابل ذکر تعداد میں قوانین اور انتظامی احکامات کی منظوری کے پیش نظر جو واضح طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں؛اامریکی عدالتوں میں ایرانی حکومت کی قوت مدافعت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ اس اقدام کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی حکام اور اداروں کے خلاف امریکی عدالتوں میں متعدد مقدمات چل چکے ہیں۔ ان مقدمات کے نتیجے میں ایرانیوں کی جائیداد بشمول ایران کے مرکزی بینک کی جائیدادیں منجمد کر دی گئی ہیں۔ ان احکام کے بعد مرکزی بینک کی جائیداد، ان احکام پر عمل درآمد کے لیے ضبط کر لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس طرح کے بلاک کرنے اور ضبطی 1955 کے مودت معاہدے کے خلاف ہے؛ 13 فروری 2019 کو بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے "کچھ ایرانی جائیداد" کیس میں کیس سننے کے اپنے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا جو عدالت میں زیر التواء ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے ایران کے دوسرے مقدمے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد اس نے مودت معاہدے کیخلاف وزی کرتے ہوئے ایرانی شہریوں اور کمپنیوں کیخلاف بلاواسطہ یا بالواسطہ پابندیاں عائد کرنے کے غیر قانونی فیصلے سے ایرانیوں کا نشانہ بنایا؛ لہذا اسلامی جمہوریہ ایران نے مودت کی متعدد خلاف ورزیوں پر امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

تخت ورانچی نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ایران نے معاملے کی عجلت اور امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد ہونے سے ہونے والے ناقابل تلافی نقصان کی وجہ سے عدالت سے عبوری حکم امتناعی کی درخواست کی؛ 3 اکتوبر 2018 کو، عدالت کے ججوں نے متفقہ طور پر ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فرانزک اور زرعی مواد، ادویات اور طبی آلات کے ساتھ ساتھ ہوا بازی کی حفاظت کے لیے ضروری آلات کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو ہٹائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے امریکہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ضروری اجازت نامے جاری کیے جائیں اور مذکورہ معاملات میں رقوم کی منتقلی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ امریکہ نے نہ صرف اس فیصلے کی تعمیل نہیں کی بلکہ اس نے جان بوجھ کر اور خاص طور پر کووڈ-19 پھیلاؤ کے عروج میں نئی پابندیاں لگا کر حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 3 فروری 2021 کو عدالت نے عدالت کے دائرہ اختیار پر تمام امریکی ابتدائی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس کیس کا جائزہ لینے پر اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر، توقع کی جاتی ہے کہ امریکہ اپنا جوابی بل 22 نومبر 2021 تک عدالت میں جمع کرائے گا اور بہر حال، ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کیس کی عجلت کی روشنی میں کارروائی کو طول دینا کارروائی کی عجلت کے منافی ہو سکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha