ایران میں پڑوسی ملکوں کو 100 ارب ڈالر مصنوعات کی برآمدات کی گنجائش ہے

تہران، ارنا- ایران کی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے سربراہ نے ملک کی برآمدی منزلوں کو دو ترجیحات میں بانٹنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں پڑوسی ملکوں کی منڈیوں میں 100 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل مصنوعات کی برآمدات کی گنجائش ہے۔

ان خیالات کا اظہار "علیرضا پیمان" نے آج بروز پیر کو سرگرم اقتصادی کارکنوں سے ایک اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے برآمدی ہدف والی ممالک کو پہلی اور دوسری ترجیح کے دوحصوں میں بانٹ لیا ہے؛ پہلی ترجیح تو 23 ممالک بشمول چین، بھارت، روس، ملائیشیا، کینیا اور دیگر ہمسایہ ممالک ہیں اور دوسری ترجیح دنیا کے دیگر ممالک ہیں۔

پیمان نے کہا کہ ہم پڑوسی ممالک کی مارکیٹوں سے 100 ارب ڈالر حاصل کر سکتے ہیں  اور بھارت کے معاملے میں ہمارے پاس اس ملک کی 1.2 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ میں 28 ارب ڈالر کی برآمد کی گنجائش ہے۔

ایران کی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں برآمدات کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا جانا ہوگا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ہمیں کونسے ادارے استعمال کرنے ہوں گے اور مطلوبہ کام کے حصول کے لیے ہمیں کن کن اداروں اور شعبوں کا استعمال کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدت کے معاملے میں میں ہم نے  بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی نہیں کی تھی لیکن ہم اگلے چار سالوں میں نان ائل کی برآمدات کو دوگنا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؛ برآمدات میں اس اضافے کے کئی اہم عوامل ہیں؛ جن میں سے مناسب سفارتکاری اور ملک کے برآمدی توازن کو بہتر بنانے کا نام لیا جا سکتا ہے۔

ایرانی ترقیاتی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ اگر یوریشیا کیساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے تو  مختصر مدت میں ہمارے پاس 10 ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت ہوگی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ان صلاحیتوں کے لیے سامان ہے یا نہیں؟ ہمیں ایسے سامان کی ضرورت ہے جس میں استحکام، معیار اور مناسب قیمتوں کا نظام ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ  م ترکی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ ان کے برآمدی سامان کی قیمت فارمولے کے مطابق ہے۔ مارکیٹ بنانا لیکن برآمدات کے لیے مارکیٹ نہ ہونا، خود اقدار کیخلاف ہے۔

دراین اثنا ایران کوآپریٹو چیمبربورڈ کے رکن اور نائب صدر برائے معاونت اور منصوبہ بندی نے ایرانی چیمبر آف کوآپریٹوز کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر کا ایک اہم کام بزنس کارڈ جاری کرنا ہے، جن میں سے قانونی شعبے میں تقریبا 9 ہزار کاروباری کارڈ جاری کیے گئے ہیں اور ہم نے اس شعبے میں سب سے کم غلطی کی شرح سے کام کیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha