تقریب مذاہب فورم انتہاپسندی اور تکفیر کیخلاف مسلمانوں کی متحد آواز ہے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ جو آج امت مسلمہ نے کھویا ہے وہ بیداری اور علم ہے؛ تقریب مذاہب بین الاقوامی فورم انتہاپسندی اور تکفیر کیخلاف پورے مسلمانوں کی متحد آواز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو تکفیری دھاروں سے اتنا آگاہ ہونا ہوگا کہ یہ انحراف کوئی سماجی حیثیت نہیں پائے گا اور شروع سے ہی ختم ہوجائے گا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد باقر قالیباف" نے آج بروز ہفتے کو تہران میں منعقدہ 35 ویں عالمی اتحاد کانفرنس کی اختتامی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے دنیا کے سارے مسلمانوں کو حضرت رسول اکرم (ص) کی یوم ولادت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم (ص) کی سیرت تمام رنگوں، نسلوں اور قبائل کی امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی ہے اور آج ہم اسی رویے کا اپناتے ہوئے ایک دوسرے کیساتھ مل کر ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دے سکیں اور واحد امت مسلمہ کی تشکیل پر قدم اٹھائیں۔

ایرانی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ آج خفیہ طاقتیں مسلمانوں کے درمیان نسلی اور مذہبی انتشار پھیلاکر ان کو خانہ جنگیوں اور بردار کشی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

قالیباف نے افغانستان کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور پورے خطے میں یہ خفیہ گروہ مذہبی جنگیں شروع کر کے خطے میں مذہبی عدم تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ جرائم اور لبنان، عراق میں افراتفری اور تقسیم پیدا کرنے اور خطے کے ممالک کے بعض رہنماؤں کو اکسانے کے امریکیوں اور صہیونیوں کے وسیع منصوبے سب اس سمت میں ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ شاید امریکی فوجیوں نے بظاہر یہ علاقہ چھوڑ دیا ہوگا، لیکن بدامنی پیدا کرنے کیلئے ان کے منصوبے کسی نہ کسی طرح علاقے میں ان کی موجودگی کی وضاحت کر رہے ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ اسلامی ممالک کے مسائل کے حل میں کھوئے ہوئے تعلقات میں سے ایک "جامع مذاکرات کی حکمت عملی" ہے لہذا کسی بھی مذہب اور نسل کے اسلامی ممالک کے ذمہ دار علماء، مفکرین اور دانشوروں کو ایک دوسرے کیساتھ تبادلہ خیال کرنا ہوگا؛ یہ حکمت عملی تکفیر کے بالکل مد مقابل ہے جس نے اسلامی ممالک کے لیے خونی جنگوں اور مسلم سرمائے کی بربادی کے سوا کچھ نہیں لایا۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ عالمی گلوبل سوشل نیٹ ورکس میں کنیکٹ کیریشن کی صلاحیتوں کا استعمال ہمیں ایک واحد اسلامی قوم کی کامیابی کے مرکزی نقطہ کے طور پر "بنیادی آگاہی" پھیلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور مسئلہ جو اسلامی امت کی طاقت کو مضبوط کرتا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ معاشی تعلقات کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہے۔ آج اسلامی دنیا کی آبادی تقریبا 2 ارب ہے اگر اسلامی وحدت کے خیال کو سمجھ لیا جائے اور تنازعات کو حل کیا جائے تو اسلامی دنیا کی ایک اہم حکمت عملی یقینی طور پر سیاسی معاشی میدانوں میں اتحاد کی طرف بڑھنا اور غیر مسلم ممالک کو اتحاد میں لانا ہے جس کے لیے بات چیت اور اسلامی حکومتوں کے درمیان ابہام اور غلط فہمیوں کے حل کی ضرورت ہے۔

قالیباف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تمام مسائل کو اپنے نظریے کے فریم ورک یعنی تسلط کا انکار، سامراجی محاذ کا مسلط کردہ حکم کی عدم تسلیم، خطے سے بیرونی ممالک کا انخلا اور علاقائی ممالک بالخصوص اسلامی کیساتھ تعاون سے حل کرنے کی تیاری کا اظہار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ امن اور استحکام کے قیام سمیت غیر ملکی مداخلت یا خطے کے ممالک کی تقسیم اور خانہ جنگیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور وہ اب ایک واحد اسلامی قوم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha