1+4 گروپ سے جوہری مذاکرات کا جلد آغاز ہوگا: ایرانی وزیر خارجہ

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے تہران اور برسلز میں یورپی یونین کے حالیہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1+4 گروپ سے جوہری مذاکرات کا جلد آغاز ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار، "حسین امیر عبداللہیان" نے آج بروز ہفتے کو اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) کے نئے سیکرٹری جنرل "خسرو ناظری" سے ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایکو تنظیم میں بینکنگ، مالیاتی، تجارتی، اور نقل و حمل کے شعبوں میں بعض طویل المدتی اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کرلیا کہ مکمل نہیں کیے گئے منصوبوں کا ناظری کے دور میں جلد نافذ ہوجائیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایکو کے ایک اہم رکن ملک کی حیثیت سے افغانستان میں حالیہ دہشتگردانہ حملوں پر افسوس کا اظہار کرلیا۔

امیر عبداللہیان نے تہران اور برسلز میں یورپی یونین کے حالیہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1+4 گروپ سے جوہری مذاکرات کا جلد آغاز ہوگا۔

دراین اثنا ایکو کے نئے سیکرٹری جنرل نے ایران میں اپنی موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے منتخب ہونے پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایتوں کا شکریہ ادا کیا۔

ناظری نے ایکو کی سرگرمیوں کی رپورٹ بشمول 28 نومبر کو اشک آباد میں ایکو سربراہی اجلاس جس میں اس تنظیم کے رکن ممالک کے صدور شرکت کریں گے، کو ایرانی وزیر خارجہ کے سامنے پیش کیا۔

انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اس اہم علاقائی تنظیم کی ایرانی حمایتوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے ایکو تنظیم سمیت ایکو سیکرٹری جنرل کی مضبوط حمایت پر زور دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ آئندہ میں ایکو کے سربراہی اجلاس میں اس اہم علاقائی تنظیم کی ترقی کیلئے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے "خسرو ناظری" نے ایکو اقتصادی تنظیم کے نئے سیکرٹری جنرل مقرر کیے گئے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha