پاک ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی شہر لاہور میں تعینات ایرانی قونصل جنرل نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی تقویت پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایرانی تاجروں کیلئے ویزہ جاری کرنے میں آسانی لانے اور باہمی تجارتی تعاون میں عائد کی گئی کورونا پابندیوں پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق، "محمدرضا ناظری" نے آج بروز بدھ کو لاہور کی ایوان صنعت و تجارت کے نئےسربراہ "نعمان کبیر" سے ایک ملاقات میں پاک ایران باہمی تعلقات کی تازہ ترین تبدیلیوں سمیت، اقتصادی، تجارتی اور سرحدی شعبوں تعاون بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ پاکستانی حکومت، بالخصوص تجارتی تعاون اور تاجروں کی دونوں ملکوں کی آمد و رفت میں کورونا پابندیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں مزید آسانی لائے گی اور تجارتی اور سرحدی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

ناظری  نے ایران اور پاکستان کے درمیان پروازوں کی بحالی بشمول شہر لاہور  سے آنے جانے والی پروازوں کی بحالی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایرانی تاجروں کے لیے ویزہ جاری کرنے کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹرکوں کی نقل و حمل اور نقل و حرکت کی سہولت، تاجروں اور پاکستانی عوام کی درخواست کردہ ایرانی سامان اور پھلوں سے متعلق کسٹم سہولیات اور ٹیرف بھی ضروری ہے۔

پاک ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا

 لاہور میں تعینات ایرانی قونصل جنرل نے علاقائی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے افغانستان میں داعش دہشتگرد گروہ کے جرائم اوراس ملک میں حالیہ دہشتگردی حملوں میں دسیوں نمازیوں کی شہادت کی مذمت کی۔

دراین اثنا لاہور کی ایوان صنعت اور تجارت کے نئے سربراہ نے ایرانی شاندار تہذیب اور ثقافت کو سراہتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مشترکات کو قوموں کے درمیان تعاون بڑھانے کا اصل بنیاد قرار دے دیا۔

 نعمان کبیر نے مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام سمیت ایران پاکستان سرحدی تعلقات کی توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم، ان کی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق نہیں ہے اور دو طرفہ تجارت بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کی جانی ہوں گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کورونا پابندیوں میں کمی  کے پیش نظر ایران اور پاکستان کے درمیان سیاحت کی مزید ترقی، بشمول مذہبی سیاحت اور تجارت اور ثقافتی وفود کا تبادلہ، دونوں ممالک کے ایجنڈے میں ہونا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha