ایران قیدیوں کے تبادلے کو جوہری مذاکرات سے منسلک ہونا نہیں چاہتا ہے: امیرعبداللہیان

تہران ، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران قیدیوں کے تبادلے کو ایک انسانی مسئلہ سمجھتا ہے اور اسے جوہری مذاکرات سے جوڑنا نہیں چاہتا۔

یہ بات "حسین امیرعبداللہیان" نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریش کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے افغانستان میں داعش کی حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس ملک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
امیرعبداللہیان نے کہا کہ دہشتگردوں کے اقدامات، نمازیوں کو نشانہ بنانے اور مہاجرین کی نئی آمد نے اقوام متحدہ کو پہلے سے زیادہ ذمہ دار بنا دیا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ کارروائی کریں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پڑوسیوں کی کانفرنس تہران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر منعقد ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور علی باقری اور یورپی یونین کے نائب سیکرٹری جنرل برائے خارجہ ایکشن انریکہ موورا کے درمیان حالیہ مذاکرات مثبت تھے اور اگلے ہفتے برسلز میں جاری رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے جس کے ٹھوس نتائج سامنے آتے ہیں ، ایران اپنے وعدوں پر واپس آئے گا اگر دیگر فریق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں گے۔
گوٹیرش نے کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان کو انسانی امداد جاری رکھے گی اور تمام افغان گروہوں اور اقلیتوں سمیت ایک جامع حکومت کی تشکیل پر زور دے گی۔
انہوں نے ایٹمی مذاکرات کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ ایران جوہری معاہدے کی حمایت کی ہے اور اس معاہدے سے امریکی انخلاء کے بعد اس کا حل تلاش کیا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha