ایران روس مشترکہ فوجی کمیشن اگلے تین مہینوں میں منعقد ہوگا: جنرل باقری

ماسکو، ارنا- ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ ایران روس مشترکہ فوجی کمیشن اگلے تین مہینوں میں انعقاد کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، جنرل باقری اپنے روسی ہم منصب "والری گراسیموف" سے حالیہ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران روس مشترکہ فوجی کمیشن میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی، سیکورٹی اور تربیتی شعبوں میں تعاون پر مذاکرات ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ملاقات میں دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان ایک تعاون کے معاہدے پر دستخط ہونے پر گفتگو کی گئی۔

میجر جنرل باقری نے کہا کہ دفاعی اور سیکورٹی شعبوں میں باہمی تعاون کا جائزہ بھی لیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روسی فریق سے ہمارے وسیع پیمانے پر منصوبے ہیں جن کا اگلے سال میں نافد کیا جائے گا۔

روسی مترجم جوزف کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ روسی فریق سے مختلف موضوعات بشمول شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات میں شامی بحران اور اس ملک میں ناجائز صہیونی ریاست کی مہم جویی پر بھی تبالہ خیال کیا گیا۔

میجر جنرل باقری نے کہا کہ انہوں نے گراسیموف سے علاقے قفقاز جو ایران کیلئے انتہائی حساس علاقہ ہے، پر بھی مذاکرات کیے گئے۔

جنرل باقری کے مطابق، روسی فریق نے ناگورنو کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے پر بات چیت کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ افغانستان میں بغیر ایک جامع حکومت کے قیام سے امن اور سکون برقرار نہیں ہوجائے گا۔

جنرل باقری نے کہا کہ نیز اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ افغانستان سے سیکورٹی کے خطرات اور داعش کے خطرے کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha