ایران روس فوجی تعاون ترجیحات میں سر فہرست ہونا ہوگا: روسی مسلح افواج کے سربراہ

ماسکو، ارنا- روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف "والری گراسیموف" نے اپنے ایرانی ہم منصب میجر جنرل "محمد باقری" سے ایک ملاقات میں فوجی شعبوں میں دونوں ملکوں کی بے پناہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس فوجی تعلقات، مذاکرات کی ترجیحات میں سرفہرست ہونے ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق، والری گراسیموف نے پیر کے روز ایرانی مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات کے ابتدا میں کہا کہ ایران، روس کا قریبی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک دوستانہ ماحول میں ایک طویل روایت کی بنیاد پر ہیں اور دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

روسی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ آج کی ملاقات میں ہم باہمی دلچسبی امور سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا عالمگیر وبا کے پھیلاؤ کے باوجود، دونوں فریقین رابطے میں ہیں اور مجھے امید ہے کہ آج کے مذاکرات، باہمی تعلقات کے فروغ میں تعمیری اور موثر ثابت ہوں گے۔

گراسیموف نے فوجی شعبوں میں دونوں ملکوں کی بے پناہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس فوجی تعلقات، مذاکرات کی ترجیحات میں سرفہرست ہونے ہوں گے۔

در این اثنا میجر جنرل باقری نے روسی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع کی ان کی دورہ روس کی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میںشنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت پر روسی صدر "ولادیمیر پیوٹین" کی حمایتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے حالیہ برسوں میں ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں فوجی اور دفاعی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تعاون کا بڑھتا ہوا راستہ جاری رہے گا۔

جنرل باقری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تہران اور ماسکو کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے گزشتہ 10 سالوں میں خاص طور پر شام اور عراق میں بین الاقوامی دہشت گردی سے لڑنے کے معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے کمانڈ اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر، روس کیساتھ تعلقات استوار کرنے کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔

انہوں نے روس میں سینٹ پیٹرز برگ نیول پریڈ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فن لینڈ اور بحراوقیانوس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک بحریہ کی موجودگی ایک قیمتی تجربہ ہے جو مشترکہ سمندری تعاون میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے پاس دو مشترکہ فوجی کمیشن ہیں جو تعاون کے ایک ہی فریم ورک میں جاری ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha