روس سے فوجی- دفاعی سازو سامان کی خریداری کے معاہدوں کے نفاذ کا فالو آپ کریں گے: جنرل باقری

ماسکو، ارنا- ماسکو کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے روس سے لڑاکا طیاروں، تربیتی جیٹ طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے ایران پر اسلحہ کی پابندی ہٹانے کے بعد مکمل ہوئے تھے اور اس سفر کے دوران ہم اس کے نفاذ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، روس کے دورے پر آئے ہوئے میجر جنرل "محمد باقری" نے ماسکو میں قائم ایرانی سفارتخانے میں ایرانی اداروں کے ماہرین اور مینیجرز کیساتھ ایک اجلاس میں اس دورے کے مقاصد، دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ دفاعی- فوجی تعلقات، دہشتگردی کیخلاف جنگ اور علاقائی اور بین الاقوامی کی تازہ ترین صورتحال کی وضاحتیں پیش کیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر ممالک بالخصوص روس سے مضبوط تعلقات کیلئے ہمیں ایک روڈ میپ کی ضرورت ہے۔

جنرل باقری نے کہا کہ روس سے دفاعی اور فوجی شعبوں میں تعاون کی بے پناہ صلاحیتوں کے پیش نظر ان شعبوں میں باہمی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے روس سے لڑاکا طیاروں، تربیتی جیٹ طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے ایران پر اسلحہ کی پابندی ہٹانے کے بعد مکمل ہوئے تھے اور اس سفر کے دوران ہم اس کے نفاذ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت، بین الاقوامی صورتحال اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے روس کے صدر کے خصوصی نقطہ نظر کی وجہ سے ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا موقع ہے۔

جنرل باقری نے ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ جامع تعاون دستاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چین کے ساتھ 25 سالہ دستاویز کے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے شاید روس کے ساتھ تعلقات میں ایسی دستاویز پر دستخط بھی لازمی ہو۔

انہوں نے بیرونی ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مشنوں کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مشنوں، خاص طور پر روس میں ایرانی مشن، کو طویل مدتی میدان میں تعلقات کا روڈ میپ تیار کر کرنے کیلئے مرکز کو مربوط، مضبوط اور حقیقت پسندانہ منصوبے بھیجنے چاہئیں تا کہ مختلف محکموں کی مشاورت سے دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک مکمل، جامع اور طویل مدتی دستاویز کی وضاحت کر سکیں۔

میجر جنرل باقری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مختلف جہتوں میں کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مسلح افواج پابندیوں کے باوجود  مختلف میدانوں بشمول اسلحے اور فوجی اور دفاعی ساز و سامان کی ضروریات کو بنانے میں کامیاب ہوئیں اسی طرح ملک کے دیگر حصوں کو اسی سوچ کیساتھ کہ پابندیاں کبھی ہٹائی نہیں جائیں گی، سے ایسا رویہ اپنانے اور اپنے فرائض پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں فوجی اور دفاعی شعبوں میں ایران روس تعلقات کی نمایاں ترقی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا جتنے زیادہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھ جائیں اتنی ہی منفی ذہنیتیں ختم ہو جائیں گی۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی سفر میں بہت سی منفی ذہنیتیں ختم ہوگئیں۔

جنرل باقری نے اپنے دورے روس میں فوجی حکام کیساتھ افغانستان کے مسئلے پر گفتگو کو اس سفر کے ایک اور مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے علاوہ، شام میں امن کے مکمل حصول کیساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha