پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر بارٹرسسٹم منصوبے کی ترقی کیلئے تہران کا دورہ کریں گے

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل، تجارت اور پیداوار نے کہا ہے کہ وہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں حصہ لینے، سرحدی بازاروں کی ترقی و نیز ایران سے بارٹر سسٹم منصوبے کی پیش رفت کیلئے نومبر میں تہران کا دورہ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "عبدالرزاق داؤد" نے اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے ایران اور پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے ممبران سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اور 6 نومبر کو اپنے دورہ ایران کو انتہائی اہم قرار دے دیا۔

منعقدہ اس اجلاس میں ایران پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے سربراہ "احمد امیر آبادی فراہانی" اور ان کے ہمراہ وفد سمیت اسلام آباد میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "سید محمد علی حسینی" نے بھی حصہ لیا تھا۔

اس موقع پر پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر تجارت نے کہا ہے کہ سرحدوں بازاروں کی تقویت اور ایران کی بارٹر سسٹم کے فروغ کی حکمت عملی کی تجویز انتہائی اہم ہیں اور اسلام آباد ان کا سنجیدگی سے تعاقب کر رہا ہے کیونکہ ہمارا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا فروغ ہے۔

انہوں نے پاکستان کیجانب سے مشترکہ سرحدوں میں سرحدی بازاروں کے فروغ کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تقویت کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بازار کی تعمیرکا عمل جاری ہے اور ہمارا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے سرحدی باشندوں کی زندگی کو بہتر بنانا اور ایران اور پاکستان سے منسک دونوں سرحدی صوبوں کے باشندوں کے درمیان بنیادی سامان کی درآمد اور برآمد کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ فی الحال سامان ٹزانزٹ کی سمندری نقل و حمل کی بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے اور اسلام آباد روڈ ٹرانسپورٹ پلان کی پیش رفت پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ٹرک کے ذریعے سامان بھیج کر روڈ ٹرانسپورٹ کو سمندری نقل و حمل کی جگہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں؛ اس تجویز کا ایرانی پارلیمانی وفد نے خیر مقدم کیا۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر بارٹرسسٹم منصوبے کی ترقی کیلئے تہران کا دورہ کریں گے

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر تجارت نے ایرانی سیب کو افغانستان کے ذریعے پاکستان میں برآمد کرنے، بارٹرسسٹم سے متعلق موجودہ مسائل اور اس حوالے سے پاکستان اسٹیٹ بینک کے عہدیداروں سے مذاکرات کرنے اور ان مسائل کے حل کا جائزہ لینے کا وعدہ دیا۔

دراین اثنا ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ نے جابرانہ امریکی پابندیوں کیخلاف اسلام آباد حکومت کے واضح اور مضبوط موقف کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو تجارت کی ترقی اور ایک دوسرے کی کاروباری برادری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یکطرفہ پابندیوں کے اثرات سے آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی آبادی اور رقبہ بطور ایرانی ملک کے ہمسایہ کے، پاکستان کے مقابلے میں کم ہے لیکن وہ پابندیوں سے متعلق بعض کیس میں امریکہ سے استثنی لینے میں کامیاب رہا ہے۔

امیر آبادی فراہانی کہا کہ  ایران اور عراق کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم تقریبا 18 ارب ڈالر ہے۔ لیکن پاکستان کا ایران کے ایک اور پڑوسی کی حیثیت سے مشترکہ تجارت کا صرف 1 ارب ڈالر ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ پاکستان کی حکومت اور پارلیمنٹ اور امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے پابندیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں۔

انہوں نے پاکستانی طرف سے مشترکہ بارٹر سسٹم روم قائم کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مالی اور بینکنگ معاملات میں بارٹر سسٹم ایک آسان طریقہ ہے اور ہم اس سسٹم کے ذریعے دونوں ممالک کی تجارتی سطح کو مطلوبہ سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندی کے دوران، بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت، ایک مؤثر طریقہ ہوگا کیونکہ امریکی اب پابندی لگانے میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تیل کی برآمدات جاری ہیں، پٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی فراہمی جاری ہے، اور ہماری نان آئل مصنوعات کی برآمدات کی سطح تقریبا 50 ارب ڈالر ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر بارٹرسسٹم منصوبے کی ترقی کیلئے تہران کا دورہ کریں گے

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha