پاک ایران اقتصادی تعلقات کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت

اسلام آباد، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کو دو مسلم اور پڑوسی ممالک کے طور پر جن کی آبادی 300 ملین سے زیادہ ہے، ایک دوسرے کی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں کے۔

رپورٹ کے مطابق، پڑوسیوں کیساتھ تعاون اور ہم آہنگی، اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیادی حکمت عملی اور خاص طور پر 13 ویں حکومت کا روڈ میپ ہے جس پر ایرانی صدر علامہ رئیسی نے مشرقی پڑوسی پاکستان کے اعلی عہدیداروں کیساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں میں زور دیا تھا۔

نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایک اسلامی ملک اور ایران کے قریبی پڑوسی کی حیثیت سے جس کی ایران سے مشترکہ سرحد تقریبا ایک ہزار کلومیٹر ہے، ایران کی خارجہ پالیسی میں سیاسی، سفارتی، فوجی اور سیکورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہ خصوصیت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے کی اہمیت کو دوگنا کر دیتی ہے۔

* ایرانی تیرہویں حکومت کا اپنے مشرقی پڑوسی کیساتھ تعاون کے نئے طریقے نکالنے کا وژن

اس حوالے سے علامہ رئیسی، حالیہ مہینوں میں ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین "محمد صادق سنجرانی" سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات، دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات سے کہیں زیادہ آگے ہیں؛ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مذہبی اور ثقافتی عقائد پر مبنی ہیں جو لازوال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی سطح کو اس سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہم باہمی تعلقات کی تقویت کے نئے طریقے نکال سکتے ہیں۔

علامہ رئیسی نے اس بات پرزور دیا کہ ہمیں باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیتوں کی نشاندہی اور ان کو دونوں ممالک کے مفادات کی فراہمی کے سلسلے میں بروئے کار لانا ہوگا۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی پارلیمنٹس، تعلقات کی توسیع کی راہ میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔

علامہ رئیسی نے گزشتہ چند ہفتوں میں تاجکستان میں منعقدہ شنگھائی سراہی اجلاس کے  موقع پر بھی پاکستانی وزیر اعظم "عمران خان" سے ایک ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی مشترکات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک- ایران تعلقات دو ہمسایہ ممالک سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔

ایرانی صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اغیار کی سازشوں کو ان اچھے تعلقات پر خلل ڈالنے کی اجارت نہیں دینی ہوگی۔

علامہ رئیسی نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحدوں اور ان سرحدی علاقوں میں اقتصادی تعلقات کے فروغ کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سیکورٹی کا قیام، ان علاقوں کی اقتصادی اور تجارتی لین دین کی اہم صلاحیتوں کو فعال کر سکتا ہے اور ان علاقوں کی خوشحالی میں اضافے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

*موجودہ صلاحیتوں کی نشاندہی کرنے اور تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت

اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ معاشی تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی رکھنے والے پاکستانی تاجروں کے بینکاری تعلقات کی بحالی ہمیشہ سے ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔ ماضی میں دو بڑی ہمسایہ حکومتوں کے درمیان کوششیں ہوتی رہیں لیکن ایران کے خلاف غیر قانونی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوا۔

پاکستانی تاجر اور کاریگر ایران کی 80 ملین مارکیٹ میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے پاکستانی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اقتصادی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کے ساتھ بارٹر کا نظام شروع کرے، اسلام آباد میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کیساتھ ایک ملاقات میں بھی پاکستانی کاروباری کارکنوں اور صنعتی مالکان کو یہ تجویز پیشکش کی۔

ایران پاکستان سرحدی تعلقات میں حالیہ تبدیلیوں میں سے ایک "پیلہ وری" کراسنگ کو (چھ ماہ کی بندش کے بعد) دوبارہ کھولنا ہے تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے سرحدی باشندوں کے درمیان ڈیوٹی فری تجارت کو آسان بنایا جا سکے۔

* تہران اور اسلام آباد کا علاقائی تعاون

خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ اور مواصلاتی منصوبوں کو آسان بنانا، جیسے ای سی او فریٹ ٹرین، علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایران اور پاکستان کی ممکنہ صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔

پاک چین مشترکہ اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایران کا خیرمقدم اور ایران-چین جامع 25 سالہ تعاون منصوبہ سے متعلق پاکستانیوں کا مثبت نقطہ نظر دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان علاقائی تعامل کے لیے تعاون کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

 پاکستان اقتصادی راہداری میں ایران کے الحاق کے اس بڑے اقتصادی منصوبے کے بہت سے فوائد ہیں۔ سب سے پہلے، یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں موجودہ خلا کو پُر کرتا ہے، جو کہ مواصلات کی کمی ہے۔

 اس منصوبے میں ایران کی شمولیت سے سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی ہو گی اور اس کے نتیجے میں تین ممالک؛ ایران، پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔

حالیہ ہفتوں میں، استنبول-تہران-اسلام آباد-ریل کوریڈور منصوبے کی بحالی کے بارے میں اچھی خبر سنائی گئی اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی لاجسٹک کمپنی (این ال سی) استنبول سے ایران کے راستے اسلام آباد میں قیمتی کارگو درآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ تہران، استنبول اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی راہداری سے فائدہ اٹھانے کے لیے تازہ ترین اہم قدم ہے۔

دریں اثنا، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے استنبول-تہران-اسلام آباد راہداری (آئی ٹی آئی) کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔

*سرکاری سرحدوں میں اضافہ اور ایران اور پاکستان کے درمیان آسان تجارت کا وعدہ

پچھلے سال کے دوران، دونوں برادر اور پڑوسی ممالک نے سرحدی تعاون کی ترقی میں ڈرامائی تبدیلی دیکھی جو ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان دو نئی سرکاری سرحدی گزرگاہیں کھولی گئیں۔

نیز ایران اور پاکستان کی دوسری اور تیسری سرکاری گزرگاہ ریمبدان میں (گبد) اور پشین میں (مند) گزشتہ سال کے دسمبر اور اس سال کے اپریل میں دونوں ممالک کے سینئر حکام کی موجودگی میں افتتاح کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ پاکستانی تاجر، اپنی حکومت سے ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو مؤثر طریقے سے فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں پاکستانی سرحدی انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور  زمینی آمد و رفت میں آسانی لانا شامل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی کمپنیوں نے بھی پاکستانی میلوں میں شرکت کی ہے اور پاکستانی تاجروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ جبکہ کئی پاکستانی کمپنیوں نے ایرانی تجارتی میلوں میں اپنی مصنوعات کی نمائش کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha