ایران اور عراقی علاقے کردستان کے مشترکات واحد امت مسلمہ کے حصول میں مددگار ہیں

تہران، ارنا- اسلامی مذاہب کی عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے عراقی کردستان کی اسلامی اتحاد پارٹی کے سیکرٹری جنرل سے ایک ملاقات کے دوران کہا ہے کہ عراقی علاقے کردستان کے اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مذہبی اور ثقافتی مشترکات ہیں جن کا ایک واحد اسلامی قوم کے حصول کیلئے تعاون کے شعبوں کو مضبوط بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی کردستان کی اسلامی اتحاد پارٹی کے سیکرٹری جنرل "صلاح الدین محمد بہاء الدین" نے آج بروز منگل کو اسلامی مذاہب کی عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل علامہ "حمید شہریاری" سے ملاقات اور گفتگو کی۔

اس موقع پر علامہ شہریاری نے  ورلڈ اسمبلی آف اپیکسمیشن کے قیام کی تاریخ اور ان کے سابق سیکرٹریز کا حوالیہ دیتے ہوئے ا سلامی یونین کے تصوراتی ماڈل اور اس ماڈل کے حصول کے 4 مراحل کے سے متعلق مختصر وضاحتیں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ عراقی علاقے کردستان کے اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مذہبی اور ثقافتی مشترکات ہیں جن کا ایک واحد اسلامی قوم کے حصول کیلئے تعاون کے شعبوں کو مضبوط بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شہریاری نے سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں باہمی تعامل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان صلاحیتوں کو اسلامی اتحاد کو مضبوط بنانے اور اس کا حصول کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی اسمبلی اور عراقی کردستان کے درمیان مشترکہ تعاون کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراقی کردستان کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور سیاحت کے میدان میں بہترین صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں تعاون کی ترقی کے میدان میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شہریاری نے کہا کہ اسلامی امت کے درمیان ہمیشہ نسلی، مذہبی یا ثقافتی اختلافات رہے ہیں، لیکن ہمیں ان اختلافات میں اختلافات کے آداب پر عمل پیراہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کا حل؛ قتل، لوٹ مار، غارت، جھگڑا اور جنگ نہیں ہے بلکہ ہمیں ان وباؤں کو روکنے کیلئے ایک عقلی راستے پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے۔

شہریاری نے کچھ اسلامی ممالک کیجانب سے صیہونی ریاست کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ میں تقسیم؛ ہمیشہ صہیونی ریاست کی بنیادی پالیسی رہی ہے اور اس ناجائز ریاست نے اسلامی دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

 اس موقع پر صلاح الدین محمد بہاء الدین نے  عراقی کردستان میں مختلف مذاہب کے وجود کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراقی کردستان میں مختلف نسلی گروہوں اور مذاہب کے درمیان اچھی یکجہتی اور بقائے باہمی ہے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی اور اتحاد بڑھانے کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ کیساتھ مذہب، ثقافت، ریڈیو اور ٹیلی ویژن و۔۔۔ کے شعبوں میں تعاون کا مطالبہ کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha