تخریبکارانہ اقدامات کیخلاف خاموش ہوکر نگرانی کی توقع نہیں رکھ سکتے ہیں: ایرانی مندوب

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ، یورپ اور آئی اے ای اے کو جاننا ہوگا کہ وہ صہیونی ریاست کی دہشتگردانہ کاروائیوں کیخلاف خاموش ہونے اور کوئی اقدام نہ اٹھانے سے نگرانی کا تسلسل اور دہشتگردوں کی تخریب کاری کے تحت سہولیات میں آئی اے ای اے کے کیمروں کی موجودگی کی توقع نہیں رکھ سکتے ہیں۔

"کاظم غریب آبادی" نے پیر کے روز امریکہ اور تین یورپی ممالک کے نمائندوں کے حالیہ بیانات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب آئی اے ای اے کے مانٹرینگ کے سامان، صہیونی ریاست کے ذریعے تباہ ہوجاتے ہیں تب ایران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ صہیونی ریاست کی کسی قیمت ادا نہ کرنے اور عالمی جوہری ادارے اور دیگر دعویدار ممالک کیجانب سے کوئی اقدام نہ اٹھانے سے ان کا دوبارہ انسٹال کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران  اور آئی اے ای اے کے درمیان حالیہ معاہدہ، مکمل طور پر اور طے شدہ وقت کے اندر نافذ کیا گیا؛ اب اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر بھی نظر رکھے گا کہ وہ اپنے اس خیر سگالی کا کیا جواب ملے گا، پھر ہر مرحلے پر مناسب کارروائی کرے گا۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اتوار کو ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ایران نے 20 سے 22 ستمبر تک  آئی اے ای اے  کےانسپکٹرز کو اجازت دی ہے کہ وہ نگرانی کے سامان کو چک کریں اور کیمرے میموری کارڈ کو ایران میں تمام ضروری مقامات سوائے کرج میں واقع سنٹری فیوجز پرزیوں کی تیاری کرنے والے کمپیلکس "تسا" کے تبدیل کریں۔

غریب آبادی نے پہلے کہا تھا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ غلط اور مشترکہ بیان کے فریم ورک کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 12 ستمبر کو جوہری توانائی تنظیم کے صدر اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا مشترکہ بیان بھی ایران کی نیک نیتی سے حاصل کیا گیا تھا اور اس کا مقصد "مخصوص آلات" کے میموری کارڈ کو تبدیل کرنا تھا اور آئی اے ای اے نے 20 سے 22 ستمبر تک اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اقدامات کیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی جوہری ادارے کے ترجمان نے بھی آئی اے ای اے کے سربراہ کی حالیہ غلط رپورٹ کی اشاعت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ادارے کو کو ٹارگٹڈ اور متعصب رپورٹس سے بنائے گئے تعمیری عمل میں خلل نہیں ڈالنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رافائل گروسی اور اس کے ساتھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مشترکہ بیان کے تحت طے پانے والے معاہدے میں کرج کمپلیکس کے نگرانی کے آلات (کیمروں) شامل نہیں ہیں کیونکہ جولائی کے تخریب کاری کے نتیجے میں یہ ابھی تک سیکورٹی تحقیقات کے تحت ہے۔

کمالوندی نے کہا کہ اس کمپلیکس کے کیمروں کے میموری کارڈ کی تبدیلی کو بڑھانے کی درخواست آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے دورہ تہران کے دوران اور ویانا جنرل کانفرنس کے موقع پر بھی اٹھائی گئی تھی؛ جس پر ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ "محمد اسلامی" نے وضاحتیں پیش کرتے ہوئے ان کی درخواست کا منفی جواب دے دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لفظ "آلات" کے سامنے لفظ "متعین کیے گئے" کو لکھا گیا ہے جس کا مقصد اس کمپلیکس کو سروس سے خارج کرنا اور میموری کارڈ کو تبدیل کرنا ہے۔

کمالوندی نے کہا کہ ویانا کے حالیہ اجلاس کے دوران، جب آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک بار پھر کرج کمپلیکس کی کیمرہ سروس کی درخواست کی تو محمد اسلامی نے واضح طور پر پچھلے اجلاس میں بتائی گئی وجوہات بیان کیں اور مذکورہ کمپلیکس میں میموری کارڈ کی تبدیلی کو ناممکن اور مشترکہ بیان کے فریم ورک سے باہر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ادارے کو کو ٹارگٹڈ اور متعصب رپورٹس سے بنائے گئے تعمیری عمل میں خلل نہیں ڈالنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha