ایران امریکہ کے عملی رویے کو مذاکرات کا معیار سمجھتا ہے: امیر عبداللہیان

نیویارک، ارنا – ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کیلیے امریکیوں کے عملی رویے کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔

یہ بات حسین امیر عبداللہیان نے گزشتہ روز نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکیوں کے عملی رویے کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے اور میڈیا اور سفارتی چینلز کے ذریعے شائع ہونے والے امریکی پیغامات ہمارے حتمی فیصلوں کا معیار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک کے پانچ روزہ دورے کے دوران مجھے تقریبا 50 سیاسی عہدیداروں سے ملاقات کا موقع ملا اور میں نے امریکی میڈیا ، تھنک ٹینک اور ماہرین تعلیم کے ساتھ دو اہم ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دنوں میں ممالک نئی ایرانی حکومت کےحکام کی ملاقات کیلیے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرتے تھےلیکن وقت کی قلت کی وجہ سے اس کام کا امکان نہیں تھا۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ ہم اس دورے کے دوران تجارت اور اقتصادی تعاون کی ترقی کے ساتھ ساتھ ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تجارت پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ جس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوٹیرس اور متعدد وزرائے خارجہ بشمول فرانس ، جرمنی اور برطانیہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا ویانا مذاکرات اور جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی کا طریقہ تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@  

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha