ایران سے متعلق امریکی غیر تعمیری نقطہ نظر کا ایران یورپ کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونا ہوگا: امیر عبداللہیان

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران، یورپ سے متوازن تعلقات رکھنے پر پُختہ عزم رکھتا ہے اور ایران سے متعلق امریکی غیر تعمیری نقطہ نظر کا ایران یورپ کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ "حسین امیر عبداللہیان" نے اپنے سپین کے ہم منصب "خوسہ مانوئل آلبارز" سے ایک ملاقات کے دوران، باہمی دلچسبی امور اور یورپی یونین سے تعلقات سمیت افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی۔

امیر عبداللہیان نے ایران اسپین تعلقات کی 400 سالہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے سیاسی، اقتصادی اور پارلیمانی شعبوں میں تعلقات درست سمت میں گامزن ہیں، لیکن صحت، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی، ثقافت اور سیاحت اورنجی کمپنیوں کی سرگرمیوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر نئے منصوبوں کا نفاذ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کورونا پھیلاؤ کے عروج پر صحت اور طب کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان قابل قدر تعاون کو ناقابل فراموش قرار دے دیا۔

امیر عبداللہیان نے اس ملاقات کے دوران، سپین میں ایرانی طلباء کیلئے بینکنگ کے مسائل اور ان کی ٹریفک کی نشاندہی کی اور امید ظاہر کی کہ یہ مسائل مشترکہ تعاون کے ذریعے حل ہوں گے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے یورپ سے تعلقات کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی میں یورپ کیساتھ بشمول سبز براعظم کے تمام ممالک کو ترجیح حاصل ہے اور یہ صرف ٹرویکا تک محدود نہیں ہیں۔

در این اثنا ہسپانوی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ریمارکس کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسپین نے سیاسی اور تجارتی تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے اسپین نے انٹیکس میکنزم میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

البارز نے 2018 سے تجارتی تعلقات میں کمی کے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے باہمی کوششوں سے ان حالات کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہسپانوی وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپین، ملک ایران میں افغان مہاجرین کی ویکسینیشن میں مدد کیلئے تیار ہے۔

آخر میں ایران اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کی انسانی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور عالمی برادری کی جانب سے سرخ لکیریں کھینچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha