ایران نے ہمیشہ علاقائی مذاکرات پر زور دیا ہے: امیر عبداللہیان

نیویارک، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ علاقائی مذاکرات پر زور دیا ہے۔

یہ بات حسین امیر عبداللہیان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے موقع پر بغداد کے چند فریقی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور سلامتی پیدا کرنے کے لیے اندرونی اور دیسی سلامتی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

حسین امیر عبداللہیان نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ علاقائی مذاکرات کے انعقاد کے خواہاں ہیں۔

یہ نشست عراقی وزیر خارجہ کی صدارت میں اسلامی جمہوریہ ایران، اردن ، سعودی عرب، ترکی، کویت، مصر ، قطر، فرانس، یورپی یونین کے اعلی نمائندے برائے خارجہ پالیسی، عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل، خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کے اعلی نمائندوں اور وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ یہ نیویارک میں عراقی سفیر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بحرانوں اور مسائل سے نکلنے اور غلط فہمیوں اور اختلافات کو حل کرنے کیلیے سفارت کاری اور بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت اور مذاکرات کے بغیر خطی ممالک  اپنے مواقع، سہولیات اور وسائل کو ترقی اور پیشرفت کے بجائے ملٹریائزیشن اور ہتھیاروں کے خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بحران ، کشیدگی اور جنگیں جاری رہتی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ علاقائی مذاکرات پر زور دیا ہے اور مغربی ایشیا کے خطے کے  پچھلے 100 سالوں کی تاریخ اور حقیقت سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی مداخلت پائیدار ترقی کے راستے میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں خطے میں استحکام اور سلامتی پیدا کرنے کے لیے اندرونی اور دیسی سکیورٹی اقدامات کی ضرورت ہے اور کسی بھی شکل میں غیر ملکی مداخلت خطی ممالک کےامن و سلامتی، آزادی اور خودمختاری کے منافی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران بغداد سمٹ کے انعقاد کو خطے میں امن اور ترقی کی حمایت میں ایک اہم قدم سمجھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ علاقائی تعاون بالخصوص اقتصادی تعلقات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خطے کے ممالک انسداد دہشت گردی ، انسداد منشیات ، توانائی تعاون ، سمندری سلامتی اور ماحولیاتی بحرانوں کو حل کرنے پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

۔ ۔ ۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha