شنگھائی میں ایران کی شمولیت سے ظاہر ہوتی کہ امریکی دھمکیاں بے اثر ہیں

تہران، ارنا – نائب ایرانی صدر برائے پارلیمانی امور نے اس بات پر زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے مستقل رکن کے طور پر ایران کی قبولیت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی دھمکیاں اب کارگر نہیں رہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یکطرفہ پن اور یکطرفہ اقدامات کا دور ختم ہو چکا ہے۔

یہ بات سید محمد حسینی نے گزشتہ روز ایک ایک براہ راست ٹی وی پروگرام میں ایران کے پڑوسی ممالک بالخصوص شنگھائی سمٹ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں بیکار ہیں۔

انہوں نے عالمی موجودہ مسائل میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کی اہمیت کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاجکستان میں کے اس سربراہی اجلاس میں ڈاکٹر روحانی کی موجودگی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا اور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہماری سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم موڑ تھا۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان اجلاس میں اہم ممالک جیسے چین جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور مستقبل میں پہلی معیشت بن جائے گا،  کی موجودگی اور اس عرصے کے دوران ہمارے ساتھ چین کا تعاون خاص طور پر  ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون  کا جامع پروگرام اس سربراہی اجلاس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یقینی طور پر چینی حکومت جانتی ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے بہتر کام کر سکتی ہے کیونکہ گزشتہ حکومت نے یورپ اور مغرب پر زیادہ توجہ مرکوز کی تھی جبکہ ایرانی سپریم لیڈر کے کہنے کے مطابق نے ہمیں مشرق کی طرف جانا چاہیے، اس لیے چین اس تنظیم میں ہمارے ساتھ ایک اچھا اتحادی بن سکتا ہے۔

حسینی نے کہا کہ اس کے علاوہ ، روس کے ساتھ ہم ایک طویل عرصے سے تعاون کر رہے ہیں البتہ مغربی ممالک نے ایران کی طرح روس پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha