ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت ایک کامیاب سفارتکاری تھی: صدر رئیسی

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے کہا کہ ان کے دورے تاجکستان کی مختلف پہلو تھیں اور ان میں سے ایک اقتصادی سفارتکاری اور پڑوسیوں سے تعلقات کے فروغ کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا نفاذ تھا جس سے تاجکستان کیساتھ تعلقات کا ایک نئے باب کا آغاز کا مشاہدہ کریں گے۔

علامہ رئیسی نے ہفتے کی شام کو تاجکستان کے تین روزہ دورے کی وطن واپسی کے بعد اس دورے کی کامیابیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت ایک کامیاب سفارتکاری تھی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تنظیم کے کلیدی رکن کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی ہمارے  ملک کے عوام  کیلئے ایک مضبوط معاشی تعلق پیدا کرتی ہے جس کا مطلب ایران کو ایشیا کے اقتصادی ڈھانچوں اور اس کے  ائیدار وسائل سے جوڑنے کا ہے۔

علامہ رئیسی نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ اور دیگر ذمہ دار وزارتوں کو اس نئے موقع سے جلد از جلد فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری شرائط فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ ایشیا کے اقتصادی بنیادی ڈھانچوں کے وسائل سے جوڑنا، اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے ایک قیمتی موقع ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ان کے دورہ تاجکستان کی ایک اور کامیابی خطے کے رہنماؤں کیساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا انعقاد تھا۔

علامہ رئیسی نے کہا کہ تاجکستان کے صدر اور حکام کیساتھ  سرکاری ملاقاتوں میں ہم نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنے سے اتفاق کیا؛ ایران تاجکستان تعلقات کی ترقی میں کچھ مسائل موجود ہیں لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے ایگزیکٹو حکام، تعلقات کے نئے باب میں داخل ہونے کیلئے ان مسائل کو حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے صدر سے ملاقات میں بھی ہم نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کے میدان میں ایک نیا باب شروع ہوگا۔

علامہ رئیسی نے شنگھائی سربراہی اجلاس کے موقع پر افغانستان سے متعلق گروپ سیکورٹی اجلاس میں شرکت کو اس سفر کی ایک اور کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں افغانستان سے متعلق ایران کے موقف کی وضاحت کی گئی اور  اس حوالے سے علاقائی اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی جو خوش قسمتی سے حاصل ہوئی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے ممالک کے رہنماؤں سے ان کی ملاقاتوں کے دوران، ان ممالک کے رہنماؤں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ افغانستان پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف پر اتفاق رائے ہونا ہوگا اور اسی سطح کی حساسیت کیساتھ جو ایران کو افغانستان کے بارے میں ہے، اس طرح کام کیا جانا ہوگا تا کہ اس ملک میں تمام نسلی اور سیاسی گروہوں کی شمولیت کیساتھ ایک جامع حکومت تشکیل دی جائے جو افغانستان کے تمام اچھے اور عزیز لوگوں کی نمائندگی کرسکے۔

علامہ رئیسی نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ اس دورے کی کامیابیاں جو کہ تیرہویں حکومت کی خارجہ پالیسی کے نفاذ کے مطابق تھیں، ملک کی معاشی ترقی کی جانب موثر عملی اقدامات اٹھانے میں مددگار ثابت ہوجائیں گی  اور معاشی کارکن، کاروباری حلقے، سرمایہ کار اور عوام اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha