ایران اور ترکمانستان کے تعلقات دو پڑوسی ممالک سے کہیں زیادہ آگے ہیں: ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے ایران اور ترکمانستان کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو دو پڑوسی ملک سے کہیں زیادہ آگے قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران اور اشک آباد میں تعاون بڑھانے کی بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے اپنے دورہ تاجکستان کے دوسرے دن کے موقع پر آج بروز جمعہ کو ترکمانستان کے صدر "قربانقلی بردی محمداف" سے ایک ملاقات میں کہا کہ مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کے باقاعدہ اجلاسوں کا انعقاد، ایران اور  ترکمانستان کے تعلقات کی توسیع میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کا تبادلہ، تجارتی لین دین کے حجم اور سامان ٹرانزیٹ کو بڑھانا، وہ شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک مزید تعاون کر سکتے ہیں۔

اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکمانستان کے صدور نے گیس کے مسئلے کے حل کرنے سے اتفاق کیا۔

دراین اثنا ترکمانستان کے صدر نے ایران سے دوستانہ تعلقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کے باقاعدہ انعقاد پر پُختہ عزم رکھتے ہیں۔

قربانقلی بردی محمد اف نے کہا کہ ایران اور ترکمانستان کے درمیان ٹرانزٹ صلاحیتوں کو فعال کرنا، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کا آج بروز جمعہ کو اس تنظیم کے 12 مستقل اور مبصرکن کے سربراہوں بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کی شرکت سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں انعقاد کیا گیا۔

اس علاقائی اجلاس جو تاجکستان کی میزبانی میں انعقاد کیا جا رہا ہے، میں تاجکستان کے صدر سمیت کرغیزستان، قازقستان، بیلاروس، پاکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہوں نے حصہ لیا ہے۔ نیز روس، چین، بھارن اور منگولیا کے صدور نے اس اجلاس میں ورچوئل حصہ لیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی صدر مملکت نے اس اجلاس کی سائڈ لائن میں پاکستانی اور آرمینیائی وزیر اعظم، بیلاروس، ازبکستان اور قازقستان کے صدور سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha