شنگھائی تعاون تنظیم عالمی کثیرالجہتی نظام کی اہم طاقت بن سکتی ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی، بدستور بین الاقوامی اور کثیر الجہتی تنظیموں میں فعال موجودگی اور یکطرفہ اقدامات سے نمٹنے پر مبنی ہے اور دو طرفہ تعاون کی مضبوطی خاص طور پر اقتصادی میدان میں، عالمی معیشت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اسٹریٹجک کردار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز جمعہ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کے دوران، تقریر کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایس سی او کے قیام کی بیسویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم، اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے بہت کم عرصے میں علاقے اور دنیا میں ایک اہم پوزیشن حاصل کرے گی۔

ایرانی صدر نے خطے میں امن اور سلامتی کی ضمانت دینے اور علاقائی سطح پر حقیقی تعاون سے متعلق منعقدہ اس اجلاس میں شرکت ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت پر ایس سی او کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ "معاشی کثیرالجہتی" اور "پڑوسیوں سے تعلقات کی تقویت" ایرانی تیرہویں حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوریشین اور روڈ بیلٹ اقدامات کا مجموعہ اس نقطہ نظر کا ایک معقول ادراک ہو سکتا ہے اور جغرافیائی سیاست، آبادی، توانائی، نقل و حمل، افرادی قوت اور سب سے اہم روحانیات، ثقافت اور تہذیب کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی وسیع صلاحیت اس کیلئے ایک اہم تحریک ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حالیہ ابتر صورتحال کی ذمہ داری، مکمل طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں، خطے کے ممالک کو  افغانستان کے عوام کیلئے ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ وہ اپنے کے مسائل پر قابو پا سکیں اور ایک محفوظ مستقبل کا راستہ طے کریں۔

 علامہ رئیسی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے مطابق، یہ صرف خطے کے ممالک کی مدد سے حاصل کیا جائے گا تاکہ افغانستان کے مستقبل کی حکمرانی میں تمام نسلی گروہوں کی مؤثر شرکت ہو۔ خطے کے ممالک صرف سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ افغانستان میں غیر ملکی مداخلت مسائل اور بالآخر اس ملک میں عدم استحکام میں اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان میں ایک جامع  اور آزاد حکومت کے قیام کیلئے اپنی تمام کوششیں کرنے پر تیار ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ پرامن جوہری پروگرام کے شعبے ایرانی عوام کے حقوق کو یقینی بنانا، ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی پُرامن جوہری سرگرمیوں کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، کیونکہ وہ  بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے دائرے میں کی جاتی ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ سفارتکاری، ملکوں کے قومی مفادات کو محفوظ بنانے کا ایک ذریعہ ہے، لیکن سفارتکاری اس وقت موثر ہوتی ہے جب تمام فریقین اس پر عمل کرتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پابندیوں کے خاتمے کو ایرانی عوام کا ناگزیر حق سمجھتا ہے اور عوام کے مفادات کیخلاف ہونے والے کسی بھی عمل کو نہیں مانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے آزادانہ طرز عمل کا احترام کرتے ہوئے یکطرفہ امریکی بلاجواز پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے اور اس کی غیر قانونی پابندیوں کی پالیسیوں کی عدم تعمیل سمیت دو طرفہ تعاون کی مضبوطی خاص طور پر اقتصادی میدان میں، عالمی معیشت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اسٹریٹجک کردار کو فروغ دینے میں اہم عنصر سمجھتا ہے۔

ایرانی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم سے ماحولیاتی شعبوں، ٹیکنالوجی کی ترقی، کورونا کے بعد تعاون، سائبر سیکیورٹی، عوامی سفارت کاری اور عوامی تعلقات کی مضبوطی سمیت اور منظم جرائم  اور منشیات اور دہشتگردی کیخلاف جنگ جیسے مسائل میں تعاون پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha