ایران کا امریکہ کیخلاف دیگر ملکوں پر غیر قانونی پابندیاں لگانے کیلئے مقدمہ چلانے کا مطالبہ

تہران، ارنا- اقوام متحدہ کے یورپی دفتر میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب نے امریکہ اور بعض یورپی ممالک کیخلاف دیگر ملکوں پر غیر قانونی پابندیاں لگانے کیلئے مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق، جینوا میں تعینات ایرانی سفیر "اسماعیل بقائی ہامانہ" نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے قریب ہونے کے موقع پر انسانی حقوق پر یکطرفہ جبر آمیز اقدامات کے نفاذ کے منفی اثرات کے حوالے سے خصوصی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ او بعض یورپی ممالک کیخلاف، ہدف ممالک پر غیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کیلئے مقدمہ چلایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ پابندیاں عام طور پر ہر ایک کے سامنے واضح تحریف اور جھوٹ کے پیکج بشمول نام نہاد انسانی ہمدردی اور مستثنیات کیساتھ پیش کی جاتی ہیں جن کا کوئی بیرونی وجود نہیں ہے۔

بقائی ہامانہ نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ عالمی ہنگامی صورتحال یعنی کووڈ -19 کی وبا، نہ صرف امریکہ کو انسانیت دکھانے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی؛ بلکہ واشنگٹن کی یکطرفہ پابندیوں کا دائرہ پچھلے دو سالوں میں بہت زیادہ بڑھ گیا؛ یہاں تک کہ کووڈ- 19 ویکسین کی فراہمی اور خریداری یا کوواکس میکنزم بھی ان پابندیوں کے منفی اور نقصاندہ اثرات سے بچ نہیں سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یکطرفہ پابندیاں (واشنگٹن) کے غلط اقدامات ہیں اور یہ ان ممالک پر بین الاقوامی ذمہ داری عائد کرتی ہیں جو اس حوالے سے امریکہ کا ساتھ دیا۔ ان اقدامات کو بھوک اور قحط کے برابر شدید معاشی مشکلات میں ڈال کر معصوم شہریوں پر ان کے دانستہ اور عوامی نقصان دہ اثرات کی وجہ سے انسانیت کیخلاف جرم سمجھا جاتا ہے؛ لہذا پراسیکیوشن، انسانی حقوق پر پابندیوں کے منفی اثرات کو روکنے کیلئے کسی بھی پروگرام کا حصہ ہونا چاہیے۔

 بقائی ہامانہ نے یکطرفہ انفورسمنٹ (یو سی ایم)، اس کے تصور، اقسام اور شرائط اور اس کے انسانی مشن کیلئے معاونت پر خصوصی رپورٹر کی جامع اور انتباہی رپورٹ کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم امریکی یکطرفہ پابندیوں کے مختلف پہلوؤں اور ان کے منفی اثرات بشمول مقامی اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے کی غیر قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ ان کے انسانی حقوق کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے ایک مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر متفق ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha