افغانستان میں قیام امن کی بحالی کیلئے تہران- اسلام آباد کی باہمی مشاورت ضروری ہے

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور پاکستان کو بحثیت افغانستان کے ہمسایہ ملک کے افغانستان کی حالیہ صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے لہذا؛ افغانستان میں قیام امن کی بحالی کیلئے تہران- اسلام آباد کی باہمی مشاورت ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق، "حسین امیر عبداللہیان" نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقات کے سلسلے میں آج بروز جمعہ کو پاکستانی وزیر خارجہ "شاہ محمود قریشی" سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے علاقائی مسائل بالخصوص افغانستان کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کی۔

انہوں نے افغان عوام و نیز اس ملک میں سیاسی-سلامتی کی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابتر صورتحال، افغانستان میں امریکی مداخلتوں اور ان کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو بحثیت افغانستان کے ہمسایہ ملک کے افغانستان کی حالیہ صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے لہذا؛ افغانستان میں قیام امن کی بحالی کیلئے تہران- اسلام آباد کی باہمی مشاورت ضروری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قیام امن اور سلامتی صرف اور صرف تمام نسلی اور سیاسی گروہوں کی شرکت سی ایک جامع حکومت کے قیام سے حاصل ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو تہران کی میزبانی میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اگلے اجلاس میں حصہ لینے کی دعوت دی۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن اور سلامتی کی بحالی کیلئے ہمسایہ ممالک کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے اس حوالے سے ایران کی حکمت عملیوں کا خیر مقدم کیا اور اس کی کوششوں کو سراہا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، چین  روس اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے اتفاق سے افغانستان کی صورتحال پر ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان آج جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کا آج بروز جمعہ کو اس تنظیم کے 12 مستقل اور مبصرکن کے سربراہوں بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کی شرکت سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں انعقاد کیا گیا۔

اس علاقائی اجلاس جو تاجکستان کی میزبانی میں انعقاد کیا جا رہا ہے، میں تاجکستان کے صدر سمیت کرغیزستان، قازقستان، بیلاروس، پاکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہوں نے حصہ لیا ہے۔ نیز روس، چین، بھارن اور منگولیا کے صدور نے اس اجلاس میں ورچوئل حصہ لیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha