شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کا ایران کی شرکت سے آغاز

ماسکو، ارنا- شنگھائی تعاون تنظیم کے 21 ویں اجلاس کا آج بروز جمعہ کو اس تنظیم کے 12 مستقل اور مبصر رکن کے سربراہوں بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کی شرکت سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں انعقاد کیا گیا۔

اس علاقائی اجلاس جو تاجکستان کی میزبانی میں انعقاد کیا جا رہا ہے، میں تاجکستان کے صدر سمیت کرغیزستان، قازقستان، بیلاروس، پاکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہوں نے حصہ لیا ہے۔ نیز روس، چین، بھارت اور منگولیا کے صدور نے اس اجلاس میں ورچوئل حصہ لیا ہے۔

تاجک ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس اجلاس میں ایس سی او کی گزشتہ 20 سالوں کی سرگرمیوں کے اہم نتائج سمیت تنظیم کے اندر کثیر الجہتی تعاون اور امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نیز مختلف ممالک کے سربراہ، علاقائی اور بین الاقوامی تعاون سمیت کئی امور پر مذاکرات کرنے سمیت کورونا وائرس وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے نتائج سے نمٹنے کیلئے ایس سی او کے اندر مشترکہ کارروائی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد ایس سی او کے رکن ممالک کے سربراہوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کو تنظیم کے  مستقل رکن کے طور پر قبول کرنے اور عرب جمہوریہ مصر، قطر اور سعودی عرب کو ڈائیلاگ پارٹنر کا عہدہ دینے کے عمل پر فیصلہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے نئے سیکرٹری جنرل اور اس تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کمیٹی کے ڈائریکٹر سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے۔

ایس سی او تنظیم کے سربراہ، افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے موقع پر ملاقات کر رہے ہیں؛ جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے ایس سی او کے رکن ممالک نے اس معاملے پر مختلف موقف اپنائے ہیں؛ چین اور ازبکستان نے طالبان کی قیادت والی حکومت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن تاجکستان نے طالبان کی حکومت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں تاجک سمیت تمام نسلی گروہوں کی شرکت کیساتھ ایک جامع حکومت کا قیام ہونا ہوگا۔

نیز شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہاں، تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں پہلی بار اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم کے رہنماؤں کیساتھ مشترکہ ملاقات کریں گے۔

  واضح رہے کہ علامہ سید ابراہیم ریسی، صدر کے طور پر اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں اپنے تاجک ہم منصب "امام علی رحمان" کی سرکاری دعوت پر کل (جمعرات) کو ایک اعلی سطحی  وفد کی سربراہی میں تاجکستان کے دورے پر پہنچ گئے؛ جہاں انہوں نے اجلاس میں شریک دیگر سربراہوں سے بھی کئی ملاقاتیں کیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اس دورے کے موقع پر اپنے تاجک ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha